رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 129

129 ہیں۔تو آئینہ اپنے اندرونی جو ہر ظاہر کرنے کے لئے ایک ایسی چیز کے آگے کھڑا ہوتا ہے جو اپنی ذات میں تو چہرہ دکھانے والی نہیں مگر جب وہ آئینہ سے مل جاتی ہے تو آئینہ میں شکل نظر آنے لگ جاتی ہے اور وہ قلعی ہے۔اسی طرح اس کا چوکھٹا اسے محفوظ رکھتا ہے تو میں رویا میں یہ مثال دے کر کہتا ہوں کہ دیکھو اللہ تعالیٰ کی مثال ایک آئینہ کی سی ہے اور انسان کی پیدائش کا اصل مقصد اس کو حاصل کرنا ہے وہی ہے جو ہمیں علم دیتا ہے لیکن وہ اپنی قدیم سنت کے مطابق اس وقت تک دنیا کو عیب اور صواب سے آگاہی نہیں بخشا جب تک اس کے پیچھے قلعی نہیں کھڑی کی جاتی جو نبوت کی قلعی ہے یعنی وہ ہمیشہ اپنے وجود کو نبیوں کے ہاتھ سے پیش کرواتا ہے جب نبی اپنے ہاتھ میں لے کر خدا تعالیٰ کے وجود کو پیش کرتا ہے تبھی دنیا اس کو دیکھ سکتی ہے ور نہ نبوت کے بغیر خدا تعالیٰ کی ہستی اتنی مخفی اور اتنی دراء الورٹی ہوتی ہے کہ انسان صحیح اور یقینی طور پر اس کا اندازہ ہی نہیں کر سکتا۔اللہ تعالی آسمانوں میں بھی ہے اللہ تعالی زمینوں میں بھی ہے، اللہ تعالیٰ دریاؤں میں بھی ہے اللہ تعالیٰ پہاڑوں میں بھی ہے اللہ تعالیٰ سمندروں میں بھی ہے اللہ تعالی خشکیوں میں بھی ہے غرض ہر ایک ذرہ ذرہ سے اس کا جلال ظاہر ہو رہا ہے مگر باوجود اس کے کہ دنیا کے ذرہ ذرہ میں اس کا جلال پایا جاتا ہے بغیر انبیاء کے دنیا نے کب اس کو دیکھا۔انبیاء ہی ہیں جو خدا تعالیٰ کا وجود دنیا پر ظاہر کرتے ہیں لیکن انبیاء خدا تعالیٰ کو بناتے نہیں وہ تو ازل سے موجود ہے پھر وجہ کیا ہے کہ انبیاء کے آنے پر دنیا خدا تعالیٰ کو دیکھنے لگ جاتی ہے اور پہلے نہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ جس طرح آئینہ کے پیچھے قلعی کا وجود ضروری ہوتا ہے اسی طرح انبیاء کو خدا تعالیٰ نے اپنے ظہور کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔پھر جو کھٹا جو ہوتا ہے وہ آئینہ کی حفاظت کا ذریعہ ہوتا ہے اور وہ نبوت اور خلافت کا مقام ہے یعنی انبیاء اور ان کے خلفاء اللہ تعالیٰ کے وجود کو دنیا میں قائم رکھتے ہیں خود اپنی ذات میں اللہ تعالی می و قیوم ہے لیکن اس نے اپنی سنت یہی رکھی ہے کہ وہ اپنے وجود کو بعض انسانوں کے ذریعہ قائم رکھے ان وجودوں کو مٹا دو ساتھ ہی خدا تعالیٰ کا ذکر بھی دنیا سے مٹ جائے گا۔الفضل 24۔ستمبر 1937ء صفحہ 3۔4 209 13 یا 14۔ستمبر 1937ء فرمایا : پیر یا منگل کو مجھے اب یہ اچھی طرح یاد نہیں رہا کہ کو نسادن تھا بہر حال ان میں سے کسی