رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 128
128 اتنی بلند ہو جاتی ہے کہ میں محسوس کرتا ہوں کہ اس وسیع دائرہ کے تمام سروں تک میری آواز پہنچ رہی ہے۔اس ضمن میں مختلف آیات قرآنیہ سے اپنے مضمون کو واضح کرتا ہوں اور بعض دفعہ تقریر کرتے کرتے میری آواز اتنی بلند ہو جاتی ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے وہ دنیا کے سروں تک پہنچ رہی ہے۔جب میں اپنی تقریر کے آخری حصہ تک پہنچتا ہوں تو اس وقت میری حالت اس قسم کی ہو جاتی ہے جس طرح کوئی شخص جذب کی حالت میں آجاتا ہے۔میں نے اس وقت الوہیت نبوت اور خلافت کے متعلق ایک مثال بیان کر کے اپنے لیکچر کو ختم کیا۔اور اس وقت میری آواز میں ایسا جلال پیدا ہو گیا کہ اس کے اثر سے میری آنکھ کھل گئی ہے۔مجھے صرف وہ مثال ہی یاد رہ گئی ہے باقی مضمون بھول گیا ہے وہ مثال میں نے رویا میں یہ دی تھی کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے انبیاء اور اس کے خلفاء کے تعلق کی مثال چوکھٹے میں لگے ہوئے آئینہ کی ہوتی ہے۔آئینہ کا کام تو در حقیقت درمیانی شیشہ دیتا ہے مگر اس شیشہ کے ساتھ کچھ اور چیزیں بھی لگی ہوئی ہوتی ہیں جیسے آئینہ کے پیچھے قلعی ہوتی ہے اور اس کے ارد گرد چوکھٹا ہوتا ہے لیکن دراصل جو چیز ہماری شکل ہمیں دکھاتی ہے اور جو چیز ہمارے عیب اور صواب کے متعلق ہماری راہ نمائی کرتی ہے وہ آئینہ ہی ہے نہ وہ قلعی جو اس کے پیچھے لگی ہوئی ہوتی ہے وہ اپنی ذات میں شکل دکھا سکتی ہے اور نہ وہ چوکھٹا جو اس کے ارد گرد لگا ہوا ہے وہ ہمارے عیب اور صواب کے متعلق ہمیں کوئی ہدایت دے سکتا ہے۔لیکن آئینہ بھی عیب اور صواب ہمیں تبھی بتاتا ہے جب اس کے پیچھے قلعی کھڑی ہو اور وہ محفوظ بھی اس وقت تک رہتا ہے جب تک وہ چوکھٹ میں لگا رہتا ہے چنانچہ چوکھٹوں میں لگے ہوئے آئینے لوگ اپنی میزوں پر رکھ لیتے ہیں۔اپنی دیواروں پر لٹکا لیتے ہیں اور اس طرح وہ ٹوٹنے سے محفوظ رہتے ہیں مگر جب ہم اس کے چوکھٹے کو اتار دیں اور اس کی قلعی کو کھرچ دیں تو آئینہ بلحاظ روشنی کے تو آئینہ ہی رہتا ہے مگر پھر وہ ہماری شکل ہمیں نہیں دکھاتا اور اگر دکھاتا ہے تو نہایت دھندلی سی جیسے مثلاً (یہ مثال میں نے رویا میں نہیں دی صرف سمجھانے کے لئے بیان کر رہا ہوں) دروازوں میں وہی شیشے لگے ہوئے ہوتے ہیں، کھڑکیوں میں بھی وہی شیشے لگے ہوئے ہوتے ہیں جو آئینوں میں ہوتے ہیں مگر ان میں سے شکل نظر نہیں آسکتی کیونکہ ان کے پیچھے قلعی نہیں لگی ہوتی۔اسی طرح جن شیشوں کے چوکھٹے اتر جاتے ہیں رویا میں ہی میں کہتا ہوں کہ ان شیشوں کا محفوظ رکھنا مشکل ہوتا ہے اور وہ ٹوٹ جاتے