رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 515 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 515

515 رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَّاَنْتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ (الانبياء : اے خدا مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو سب سے اچھا وارث ہے۔یہ دونوں دعائیں جو خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے میری زبان پر جاری کی ہیں نہایت مبارک ہیں پہلی دعا میں جماعت کی حفاظت اور ربوہ کی حفاظت کا ایک رنگ میں وعدہ کیا گیا ہے اور اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی نہ کسی رنگ میں اس مرکز کو توحید کے قیام کا ذریعہ بنائے گا اور دوسری دعا میں جماعت کی ترقی کی طرف اشارہ ہے اور دشمنوں کے ظلم سے بچانے کی طرف بھی اشارہ ہے۔الفضل 9۔جولائی 1952ء صفحہ 4 جون 1952ء 554 فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں قادیان میں ہوں اور ایک چارپائی پر لیٹا ہوا ہوں اور سامنے فرش پر ایک سکھ اور دو تین ہندو بیٹھے ہوئے ہیں۔میں ان سے مذاقیہ کہتا ہوں کہ آپ لوگوں نے تو اردو کو تباہ کرنے کی بہت کوشش کی مگر یہ پنجابی زبان اردو سے اتنی ملتی ہے کہ اس کی وجہ سے آپ اسے مٹا نہیں سکے اس پر سکھ اٹھ کر میرے پلنگ کے پاس آگیا اور بڑے زور سے کہنے لگا کہ دیکھئے ہم لوگ تو پنجابی کو قائم رکھے ہوئے ہیں اور اس طرح اردو کی بھی مدد کر رہے ہیں مگر یہ ہند و مخالفت کر رہے ہیں مگر ہندو بولے۔نہیں۔نہیں۔ہم ایسا نہیں کر رہے مگر میں مذاق کے رنگ میں انہیں طعن کرتا گیا اور اس میں آنکھ کھل گئی۔الفضل 9۔جولائی 1952ء صفحہ 5-4 جولائی 1952ء فرمایا 555 ہیں پچیس دن ہوئے احراری فتنہ کے دنوں میں نے دعا کی تو میں نے رویا میں دیکھا کہ میں ایک مکان میں ہوں جو بہت وسیع بنا ہوا معلوم ہو تا ہے۔مکان سے باہر کسی شخص نے آواز دی یا دستک دی۔میں کمرہ سے ادھر جانے کے لئے نکلا ہی تھا کہ میں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سامنے کے کمرہ سے نکل کر تیزی سے باہر تشریف لے جارہے ہیں میں نے ساتھ تو جانا چاہا لیکن آپ نے مجھے ہاتھ کے اشارہ سے روک دیا۔میری طبیعت پر ایسا اثر ہوا کہ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ باہر چونکہ خطرہ ہے اس لئے میرا ساتھ جانا ٹھیک نہیں آپ کے باہر