رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 516 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 516

516 تشریف لے جانے پر مجھے خیال آیا کہ آپ کو کچھ دیر کے بعد میں نے دیکھا ہے میں آپ کو نذرانہ پیش کروں میں خیال کرتا ہوں کہ میری جیب میں چھ سو روپیہ ہے یہ میں پیش کروں گا یہ میں سوچ ہی رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام واپس تشریف لے آئے۔میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا کہ میں روپیہ نکال کر آپ کو دوں لیکن معا یہ خیال آیا کہ آپ کے سامنے اس طرح روپیہ نکال کر دیکھنا اور گننا کہ یہ چھ سو پورا ہے یا نہیں یہ گستاخی کا رنگ رکھتا ہے اور میں نے خیال کیا کہ جب آپ کمرہ کے اندر چلے جائیں گے تو میں روپیہ گن کر دو سرے موقع پر پیش کروں گا آپ جب کمرہ میں داخل ہوئے تو آپ نے السلام علیکم کہا اور پھر درمیانی رستہ میں سے جو مکان کے کمروں میں ہے گزرتے ہوئے اپنے کمرہ میں داخل ہو گئے اور اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔الفضل 17۔اگست 1952ء صفحہ 3 جولائی1952ء 556 فرمایا : میں نے دیکھا کہ گویا ہم قادیان میں ہیں اور اسی مکان میں ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تھا لیکن کمروں وغیرہ میں کچھ فرق معلوم ہوتا ہے مکان کی شکل زیادہ تر اس پرانے نقشہ کے مطابق ہے جو کہ ابتداء میں مکان کا تھا۔میں حضرت اماں جان) کے صحن میں سے گزر رہا ہوں صحن میں دو عورتیں چادر اوڑھے لیٹی ہیں جیسے کچھ بیمار ہوتی ہیں حضرت اماں جان) مکان کے اس حصہ سے باہر تشریف لائیں جس میں ہجرت کے وقت ام متین رہا کرتی تھیں ان کو دیکھتے ہی مجھے یہ احساس ہوا کہ گویا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ابھی فوت ہوئے ہیں اور میں دل میں خیال کرتا ہوں کہ اب آپ کے گزارہ کی کیا صورت ہوگی یہ خیال آتے ہی میں نے اپنے دل میں کہا کہ جو کچھ میری آمد ہو گی وہ میں ان کی خدمت میں پیش کر دیا کروں گا اور وہ خود اپنی مرضی سے جو کچھ ہمارے گزارہ کے لئے دینا چاہیں گی دے دیا کریں گی۔یہ سوچ کے میں پاس کے ایک صحن کی طرف چلا گیا جو مشرق کی طرف ہے اور جہاں آخری زمانہ میں باورچی خانہ تھا مگر پہلے کسی زمانہ میں وہ گھر کا حصہ تھا اور اپنی شادی کے ابتدائی زمانہ میں میں بھی وہاں رہا ہوں میں جب اس صحن میں داخل ہونے لگا تو حضرت اماں جان) نے فرمایا میں بھی آجاؤں اور کچھ دیر کے لئے وہاں بیٹھوں۔میں نے کہا ”شوق سے " اور یہ کہہ کر میں صحن میں داخل ہوا