رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 514
514 تھی غالبا آج سے سات آٹھ دن پہلے میں نے دیکھا کہ مجھ پر وہ کیفیت طاری ہوئی جو کبھی کبھی طاری ہوا کرتی ہے یعنی ساری رات جاگتے اور سوتے دعاؤں میں گزر جاتی ہے کامل ہوش میں تو اپنی مرضی کی دعائیں کی جاتی ہیں لیکن خواب یا نیم خواب کی حالت میں خدا تعالیٰ کی طرف سے زبان پر دعائیں جاری کی جاتی ہیں اور یہ کیفیت قریب قریباً ساری رات صبح تک جاری رہتی ہے کبھی کبھی آنکھ کھلتی ہے تو اس وقت بھی وہ دعائیں زبان پر ہوتی ہیں جب آنکھ لگ جاتی ہے تو اس وقت بھی وہ دعا ئیں زبان پر ہوتی ہیں گویا اس رات کی کیفیت لیلتہ القدر کی سی ہوتی ہے جس کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے کہ تَنَزَّلُ الْمَلَئِكَةُ وَالرُّوحُ فِيْهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ اَمْرٍ سَلَامٌ - هِىَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ (القدر : 65) اس قسم کی رات یہ آئی تھی ساری ساری رات خواب میں بھی اور جاگتے میں بھی قرآن کریم کی کچھ آیات زبان پر جاری رہیں جو جاگتے ہوئے مجھے حفظ نہیں ہیں ان کا ایک حصہ یہ تھا کہ رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ (ابراہیم : 37) رات کے گزرنے کے بعد یہ الفاظ تو بار بار مجھے یاد آتے رہے باقی آیتیں میں پڑھتا ضرور ر ہوں لیکن مجھے یاد نہیں رہیں صبح کے وقت میرا خیال یہ تھا کہ شاید حضرت نوح کی دعاؤں میں سے ہے مگر جب قرآن شریف کھول کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاؤں میں سے ہے جو آبادی مکہ کے وقت آپ نے مانگیں۔اس وقت وہ اپنی اولاد کے لئے اور مکہ کے رہنے والوں کے لئے دعائیں کرتے وقت ان کے ایمان کے لئے بھی دعا کرتے ہیں اور ان کے رزق کے لئے بھی دعا کرتے ہیں ایمان کی دعا میں وہ اللہ تعالیٰ سے درخواست کرتے ہیں کہ ان کو شرک سے بچایا جائے اور بتوں کے اثر سے محفوظ رکھا جائے اور اس تسلسل میں وہ فرماتے ہیں۔رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ خدایا ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے تو ان کے اثر سے میری اولاد اور مکہ کے رہنے والوں کو بچا۔دوسری دعا جو بار بار میری زبان پر جاری ہوئی جو گویا ساری رات پہلی دعا کے ساتھ مل کر زبان پر جاری ہوتی رہی۔کبھی وہ جاری ہو جاتی تھی کبھی یہ۔وہ یہ تھی کہ