رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 490
490 529 غالبا ستمبر 1951ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں قادیان میں ہوں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں قادیان زیارت کے لئے گیا ہوں اور پھر وہاں سے واپس آرہا ہوں۔میں نے دیکھا کہ جس ریل میں چڑھنے کا ارادہ تھا وہ قبل از وقت چُھٹ گئی ہے جیسے کسی نے شرارتا چلا دی ہے تاکہ مجھے تکلیف پہنچے لیکن ایک موڑ کے بعد میں نے دیکھا کہ ریل پھر کھڑی ہو گئی ہے گویا کوئی حادثہ ایسا ہو گیا ہے جس کی وجہ سے وہ چل نہیں سکی اور میں نے سمجھا کہ شاید میں اسے اب پکڑلوں گا اس وقت میں نے دیکھا کہ لالہ ملاوامل قادیان والے میرے ساتھ ہیں اور ایک دو اور آدمی بھی تیرے ساتھ ہیں اس وقت میرا خیال ہے کہ یہ ریل بھا مڑی یا بھا مڑے کی طرف جا رہی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ بمبئی کے پاس کوئی جگہ ہے لیکن لالہ ملا وامل صاحب مجھے کہتے ہیں کہ یہ قادیان کے پاس ہی ہے ( قادیان کے پاس ایک گاؤں بھا مڑی ہے مگر ادھر ریل نہیں جاتی ) میں خیال کرتا ہوں کہ شاید ان کو غلطی لگ رہی ہے یہ نام کی مشارکت کی وجہ سے سمجھتے ہیں کہ گاڑی وہاں جا رہی ہے حالانکہ یہ گاڑی بمبئی کی طرف جارہی ہے۔انہی باتوں میں میری آنکھ کھل گئی۔اس کے بعد اطلاع آئی کہ لالہ ملاوائل صاحب فوت ہو گئے ہیں ممکن ہے یہ ریل کا چھٹنا اس طرف اشارہ کرتا ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی لمبی صحبت اٹھانے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کو اسلام میں داخل ہونے کا موقع نہیں دیا اور وہ فوت ہو گئے موڑ پر ریل کا جاکر کھڑا ہو جانا اور میرا اسے دیکھ لینا اور سمجھ لینا کہ میں اس میں بیٹھ جاؤں گا یہ بھی اوپر ہی کی تعبیر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ بہر حال لالہ ملا وامل صاحب کا تعلق سلسلہ سے ہمیشہ ہی اخلاص کا رہا ہے اور گذشتہ فساد کے موقع پر وہ اپنی اولاد کو نصیحت کرتے رہے کہ احمدیوں کو دکھ دینے میں کبھی حصہ نہ لیتا کیونکہ میں نے مرزا صاحب کے ساتھ اپنی عمر گزاری ہے جو راست باز انسان تھا اور ان کی خواہیں کبھی جھوٹی نہیں ہوتیں۔اس لئے ہماری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ان سے نرمی اور عفو کا معالمہ کرے۔الفضل 30 اکتوبر 1951ء صفحہ 45