رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 489 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 489

489 ہوئے تھے اس قسم کے دورے پھر مجھے ہوں ہاں ایک بات میں بھول گیا گذشتہ سال جب میں کھانسی سے بیمار ہوا کراچی اور لاہور کے ڈاکٹر میرا علاج کرتے رہے لیکن کوئی خاص فائدہ نہ ہوا لیکن ایک ایسی دیسی نسخہ کے استعمال سے مجھے کافی فائدہ ہوا تھا۔خواب میں میں سمجھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کھانسی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ کو وہ نسخہ بتاؤں لیکن ابھی میں یہ بات کہنے نہ پایا تھا کہ میری آنکھ کھل گئی۔صبح خیال آیا کہ شاید یہ نسخہ بھی کھانسی نزلہ اور سوزش گلو کے لئے بتایا گیا ہے لیکن زیادہ خیال یہ ہے کہ اس خواب کا تعلق جماعت سے ہے۔جب یہ دیکھا جائے کہ امام کو کچھ تکلیف ہے تو اس کی تعبیر یہ ہوا کرتی ہے کہ اس کے توابع کمزور ہیں۔کھانسی ورم اور گلے کی سوزش کا تعلق بولنے سے ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کی تعبیر یہ ہے کہ جماعت میں بولنے کی عادت زیادہ ہو گئی ہے جس سے کھانسی ورم اور سوزش گلو پیدا ہوتی ہے اور عمل کی عادت کم ہو گئی ہے اور خدا تعالیٰ نے اس کا علاج کا ہو ، بتھوا اور ایک اور چیز جس کا نام بھی بھول گیا ہوں بتایا ہے۔مطلب اس کا یہ ہے کہ کوئی ایسا علاج کیا جائے کہ جس سے سوزش گلو بلغم اور کھانسی دور ہو اور ایک قسم کی گرمی مفید ہوتی ہے انسان محنت کرتا ہے اور اس میں تیزی اور گرمی پیدا ہوتی ہے یہ گرمی اور تیزی مفید ہے لیکن ایک قسم کی گرمی بیکار ہوتی ہے اس سے بلغم پیدا ہوتی ہے اور انسان تکلیف اٹھاتا ہے۔کھانسی والی گرمی کے یہ معنے ہیں کہ طبائع میں ایک جوش پیدا ہو گیا ہے جس کے صحیح استعمال نہ کرنے کی وجہ سے ایک بیکار قسم کی گرمی اور سوزش پیدا ہو گئی ہے یعنی محض باتیں اور بڑے بڑے دعوے کرنے بلا وجہ فخر کرنے اور یہ کہنے کی کہ ہم یوں کر دیں گے ہم ووں کر دیں گے کی عادت پیدا ہو گئی ہے جس کے نتیجہ میں بعض روحانی امراض مثلاً بلغم کا آنا، سوزش گلو کھانسی اور نزلہ پیدا ہو گئی ہیں۔خواب میں یہ نظارہ دکھا کر خدا تعالیٰ اس طرح توجہ دلاتا ہے کہ یہ عادت دور ہونی چاہئے اور عمل کی طرف زیادہ توجہ کرنی چاہئے۔میری طبیعت پر یہی اثر ہوتا رہتا ہے اور اس نظارہ کے دیکھنے کے بعد وہ اثر زیادہ نمایاں ہو گیا ہے کہ جماعت میں بولنے کی عادت زیادہ ہو گئی ہے اور عمل کی طرف توجہ بہت کم ہے۔الفضل 7۔اکتو بر1951ء صفحہ 4 -3