رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 491
491 530 14/13۔اکتوبر 1951ء فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا کہ ہمارا سالانہ جلسہ ہے اور گویا وہ جلسہ قادیان میں ہی ہے جلسہ کے بعد میں چند دوستوں کی دعوت کرنا چاہتا ہوں میں نے انہیں کہلا بھیجا کہ وہ کھانا میرے ساتھ کھائیں۔ان میں سے ایک ذوالفقار علی خان صاحب اور ایک حیدرآباد کے کوئی صاحب ہیں جن کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ وہ وکیل ہیں اور نئے احمدی ہوئے ہیں اور کوئی شخص کہتا ہے کہ حیدر آباد کے وکیلوں میں سے نواب اکبر یار جنگ بہادر کے بعد یہ قابل وکیل سمجھے جاتے ہیں۔میں ان کی استمالت قلب کے لئے چاہتا ہوں کہ ان کی دعوت کروں اسی طرح کوئی تیسرے شخص ہیں اور وہ بھی باہر سے آئے ہوئے مہمان ہیں ان کا نام بھول گیا ہوں۔میں نے تینوں کو کہلا بھیجا کہ کھانا میرے ساتھ کھائیں اور پھر میں اس کمرہ میں گیا ہوں جس میں انہوں نے میرے ساتھ کھانا کھانا ہے اور میری حیرت کی کوئی حد نہ رہی جب میں نے دیکھا کہ تمام کمرہ مہمانوں سے بھرا ہوا ہے۔ان لوگوں میں کوئی شخص کہتا ہے کہ ہم نے سنا تھا کہ آپ نے چند آدمیوں کی دعوت کی ہے ہم نے چاہا کہ ہم بھی شامل ہو جائیں اور تبرک کے طور پر کچھ کھالیں میں خواب میں حیران ہو تا ہوں کہ میں نے تو تین آدمیوں کی دعوت کی تھی اور یہاں بیسیوں آدمی جمع ہو گئے ہیں۔تین چار آدمی کا کھانا ان سب کے لئے کس طرح کافی ہو گا ان کے لئے تو بیشک تبرک ہو جائے گا مگر جن کی دعوت کی گئی ہے ان کا پیٹ تو خالی رہے گا۔میں حیرت ہی میں تھا کہ کھانا آگیا اور دستر خوان بچھایا گیا اس وقت وہ دوست جو حیدر آباد کے ہیں اور جن کو میں نواحمد ی اور کامیاب وکیل سمجھتا ہوں انہوں نے کھانے میں ہاتھ ڈال دیئے اور میری طرف دیکھ کر کہا کہ کھانا شروع کیا جائے اور ان کے چہرہ پر اس قسم کی مسرت اور خوشی کا اثر پایا جاتا ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی اس عجیب حالت سے مزہ اٹھا رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب یہ دعوت اگر چه صرف تبرک بن گئی ہے مگر اس حالت پر ناراضگی یا غصہ ظاہر نہیں کرنا چاہئے بلکہ خوشی پر سے اسے قبول کرنا چاہئے چنانچہ میں نے بھی ہاتھ ڈالا اور شاید ایک دو لقمے کھائے اور باقی سب دوستوں نے بھی اسی طرح ایک ایک دو دو لقھے کھائے لیکن میں نے یہ دیکھا کہ اس کے بعد کچھ ایسی تسکین محسوس ہوئی کہ یہ معلوم نہیں ہوا کہ ہم نے کھانا کھایا اور صرف ایک ایک دو دو لقمے