رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 342

342 کو مخاطب کرتے ہوئے کہا جب تم لوگوں میں سے کوئی شخص اپنے بیٹے کے پھٹے ہوئے کپڑے دیکھتا ہے تو اس کے دل میں سوزو گداز پیدا ہو جاتا ہے اور رقت پیدا ہو جاتی ہے اور اس کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں مگر تمہیں یہ خیال نہیں آتا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی طرف منسوب ہونے والوں کا تفرقہ دیکھتے ہوں گے تو ان کو کتنی تکلیف ہوتی ہو گی۔جو شخص ایسے وقت میں بھی باہمی اتحاد کی طرف قدم نہیں اٹھا تا یقینا وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گردن اٹھا کے کھڑا نہیں ہو سکے گا۔میرے ان فقرات کو سن کر تمام حاضرین پر بھی ایک رقت طاری ہو گئی اور وہ شخص جسے میں سمجھتا ہوں یمن کا بادشاہ ہے اس کی آنکھوں میں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگ گئے اور وہ جوش سے کود کر آگے آیا اور میرا ہاتھ اس نے اپنے ہاتھ میں لیا اور نہایت گرمجوشی کے ساتھ اس کو بوسہ دیا اور میں نے دیکھا کہ دونوں فریق جن کے درمیان معاہدہ کرا رہا تھا وہ بھی اس بات پر متفق ہو گئے کہ اس شرط کو معاہدہ میں لکھ لیا جائے۔اس وقت معاہدہ میرے ہاتھ میں آگیا ہے جو فل سکیپ سائز کے سفید کاغذوں پر خوش نما لکھا ہوا ہے وہ شخص جو معاہدہ لکھ رہا تھا میں نے اس کے ہاتھ میں یہ معاہدہ دیا اور کہا کہ اس شرط کو اس میں بڑھا دو اور ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ جلدی چلے جائیں۔کل تک یہ معاہدہ ضرور اصلاح ہو کے لکھا جائے تاکہ ان لوگوں کے دستخط ہو جائیں پھر میں اٹھا اور جنوبی طرف کی دیوار کی طرف گیا جہاں خواب میں میں دیکھتا ہوں کہ فون لگا ہوا ہے۔اس وقت ایک شخص سفید رنگ چینیوں کی سی شکل کا آگے بڑھا اور اس نے مجھے کہا کہ لورینگ" کا فون نمبر کیا ہے (لاہور میں ایک انگریزی کھانے کی دوکان ہے) میں نے اسے کہا کہ آپ کو لورینگ کے پتہ کی کیا ضرورت ہے۔اس نے جواب میں کہا کہ میں نے بڑے بیٹے کے ہاتھ میں صفحے کا مضمون چھپنے کے لئے بھجوایا تھا پھر دوسرے بیٹے کے ہاتھ میں صفحے کا مضمون چھپنے کے لئے بھجوایا (ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ مضمون اس واقعہ کے ساتھ کچھ تعلق رکھتا ہے) اس وقت تک اس لڑکے کو وہاں پہنچ جانا چاہئے تھا اور اس کو اطلاع دینی چاہئے تھی کہ میں وہاں پہنچ چکا ہوں مگر وہاں سے کوئی اطلاع نہیں آئی اس لئے میں فون کرنا چاہتا ہوں۔اس وقت میرے دل میں خیال گذرا کہ لورینگ تو کھانے کی دکان ہے شاید اب وہاں رہائش کا بھی انتظام ہو گیا ہو گا جہاں اس کے لڑکے ٹھرے ہیں پھر میں نے جواب میں اس شخص سے کہا کہ مجھے فون کا نمبر تو معلوم نہیں لیکن آپ ایک چینج کو فون کیجئے اور