رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 341
341 بولنا ان کے ساتھ مناسب نہیں اور میں نے بجائے خلیفہ اول کے حضرت مولوی صاحب کے الفاظ استعمال کئے ) اس پر جس شخص کو میں مفتی محمد صادق سمجھتا ہوں اس نے کچھ انکار کا پہلو اختیار کیا اور اس شرط کو ماننے پر آمادگی ظاہر نہ کی تب جو دوسرا فریق ہے اور جو عرب بادشاہ معلوم ہوتا ہے اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا بات ہے اور میں نے اس کے سامنے یہی بات بیان کرنی شروع کی لیکن عجیب بات یہ ہے کہ میں پہلے تو اس سے عربی بولتا تھا اس وقت میں نے اس سے اردو بولنی شروع کی اور اس کی شکل سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اردو سمجھ رہا ہے۔میں نے اسے کہا آخر ہمارے ذریعہ سے معاہدہ کروانا اور دوسرے بادشاہوں کو جمع کرنا اس کی کوئی غرض ہونی چاہئے اور وہ غرض یہی ہے کہ ہم لوگ اس بات کی نگرانی کریں کہ اس اتحاد کے معاہدہ پر عمل کیا جاتا ہے اور یہ کہ اگر کوئی عمل نہ کرے تو ہم لوگ پھر اس کی تائید میں ہو جائیں جو معاہدہ کا پابند رہا ہے اور اس کے خلاف ہو جائیں جو معاہدہ کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے۔اس پر اس شخص نے میری تائید میں سر ہلانا شروع کیا مگر آخر میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس خیال سے کہ فریق ثانی جو اس بات کو نہیں مانتا تو شاید اس میں کوئی بات ہو گی اس نے بھی تردد کا اظہار شروع کر دیا تب مجھے جوش آگیا اور میرے سامنے جو شخص بیٹھا ہے جس کو میں کوئی بادشاد اور رئیس سمجھتا ہوں اور اس کی طرز اور شکل سے یوں معلوم ہوتا ہے جیسے وہ یمن کا بادشاہ ہے میں اس سے مخاطب ہوا اور میں نے بڑے زور سے کہا دیکھو یہ وقت اسلام کے لئے اتحاد کا وقت ہے (جب یہ فقرہ میں نے کہا تو معا میرے دل میں یہ خیال گذرا کہ یہ لوگ کہیں گے کہ آپ کی جماعت بھی تو دوسرے مسلمانوں سے عقائد میں اختلاف رکھتی ہے اور نماز وغیرہ امور میں دو سروں سے الگ رہتی ہے۔پس اس شبہ کے ازالہ کے لئے میں نے معاً اس کے بعد فقرات بڑھا دیئے کہ مذہبی اختلاف باہمی کتنا بھی ہو مگر اسلام کی ظاہری شوکت کی حفاظت کے لئے تو مسلمانوں کو جمع ہونا چاہئے کیونکہ اس کا بھی تو اثر اسلام کی آئندہ ترقی پر پڑتا ہے۔پھر میں نے کہا دیکھو جو شخص ایسے نازک وقت میں بھی اتحاد کے لئے کوشش نہیں کرتا وہ قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے گردن اونچی کس طرح کر سکے گا۔جب میں نے یہ فقرہ کہا تو میرے دل میں بہت زیادہ جوش پیدا ہو گیا اور رقت کے ساتھ میرے گلے میں پھندا پڑ گیا اور میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور میں نے اپنے سامنے کے شخص