رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 343
343 اسے کہئے کہ مجھے لورینگ سے ملا دو۔ایکھینچ والوں کے پاس نمبروں کی کتاب ہوتی ہے وہ دیکھ کر بتلا دے گا اس پر انہوں نے بڑی حیرت سے کہا کہ اچھا اس طرح بھی ہو سکتا ہے پھر تو بڑی سہولت ہے میں ان کے ساتھ یہ بات کر کے گھر کی طرف لوٹا۔جب میں اس کو ٹھڑی کے اندر داخل ہونے لگا جو اندرونی والان اور گول کمرہ کے درمیان واقعہ ہے اور جس کے دروازہ پر کھڑا ہوا میں شروع رویا میں انتظار کرتا رہا تھا اور جو گھر کی طرف کھلتا ہے تو میں نے دیکھا کہ وہاں ایک چارپائی پر میری ایک لڑکی بیٹھی ہے۔اس وقت میں یہ سمجھتا ہوں کہ امتہ الرشید ہے پھر کبھی امتہ النصیر کی جھلک پڑ جاتی ہے چونکہ اندھیرا ہے میں اچھی طرح شکل نہیں دیکھ سکا اس کی گود میں ایک بچہ ہے۔چارپائی کے سامنے ایک مرد اور ایک عورت کھڑے ہوئے میری لڑکی سے اس بچہ کے متعلق کچھ باتیں کر رہے ہیں۔میں جب کمرہ میں داخل ہوا تو اس وقت میرے ذہن میں یہ گذرا کہ یہ مرد میر ناصر نواب صاحب ہیں (جب میر صاحب کا ذکر آئے تو میں ہمیشہ ان کو نانا جان مرحوم ہی کہا کرتا ہوں اور ان کی زندگی میں بھی ہم انہیں نانا جان ہی کہا کرتے تھے۔ان کا نام نہیں لیتے تھے لیکن اس وقت میرے ذہن میں بجائے نانا جان کے میر ناصر نواب صاحب کے ہی لفظ گذرے ہیں) اور جو عورت کھڑی ہے اس کے متعلق ایک شبہ سا ہے کہ یہ ہماری نانی اماں ہیں۔ان کے متعلق جو بھی الفاظ ذہن میں آئے ہیں وہ نانی اماں کے آئے ہیں۔نام نہیں آیا (ان) کا نام سیدہ تھا میں نے ان کو باتیں کرتے ہوئے مذاقاً کہا "اچھا اس بچے کے متعلق باتیں ہو رہی ہیں یہ کہہ کر میں اندر کی طرف آیا اور میری آنکھ کھل گئی۔اس خواب سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے لئے ایک بہت ہی نازک وقت آنے والا ہے اور مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان معاملات میں آپس میں اتحاد کرلیں جن میں اختلاف کرنے پر ان کا مذہب اور عقیدہ انہیں مجبور نہیں کرتا۔جاگنے پر مجھے خیال گذرا کہ شاید وہ شخص جسے میں نے کوفیہ میں دیکھا ہے اس سے مراد مسٹر جناح ہوں اور مفتی محمد صادق صاحب ضلع سرگودھا کے رہنے والے ہیں شاید اس سے مراد ملک خضر حیات ہوں کیونکہ وہ بھی ضلع سرگودھا کے رہنے والے ہیں اور میر ناصر نواب کے متعلق مجھے خیال آیا کہ ان کے نام کا جزو نواب ہے شاید اس سے مراد نواب صاحب بھوپال ہوں کیونکہ میر صاحب کی ہمشیرہ بھوپال میں