رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 106
106 پر ایک ایسا شخص بیٹھا ہے جو میں سمجھتا ہوں کہ سلسلہ کا دشمن ہے دوسری پر میں سمجھتا ہوں کہ میں بیٹھا تھا ہم سے ہٹ کر مشرق کی طرف کچھ لوگ اور بیٹھے ہیں جو ابتداء میں ہماری طرف متوجہ نہیں تھے۔میز پر ایک چھوٹی سی شیشی یا گلاس جیسا عرب لوگ قہوہ نوشی کے لئے استعمال کرتے ہیں اور ایک بوتل ہے جس میں میں سمجھتا ہوں کہ زہر ہے۔میں نے بوتل میں سے کچھ قطرے گلاس میں ڈالے ہیں اور پانی یا کوئی اور پینے کی چیز حل کرنے کے لئے اس میں ملاتی ہے گویا میں اسے پینا چاہتا ہوں۔رویا میں ہی مجھ پر یہ اثر ہے کہ یہ ایسا زہر ہے جو قاتل ہے اور جس سے خود کشی کی جاتی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ دشمن سلسلہ بھی یہی سمجھتا ہے کہ میں خود کشی کر رہا ہوں اور چاہتا ہوں کہ وہ یہی سمجھتا رہے لیکن میں بخوبی جانتا ہوں کہ پینے کے لئے میں نے جو ڈالا ہے وہ اتنا ز ہر نہیں کہ ہلاک کر سکے بلکہ اتنی مقدار دوائی ہے ہاں مخالف یہی سمجھتا ہے کہ یہ خود کشی کرنے لگا ہے۔اتنے میں میں نے مڑ کر دوسرے لوگوں کی طرف دیکھا اور پھر مڑا ہوں کہ اس زہر کو پی لوں مگر خیال آیا کہ شاید اس مخالف نے میرے دوسری طرف متوجہ ہونے پر اس میں زہر کی مقدار زیادہ کر دی ہو اور حیران ہوں کہ اب کیا کروں۔آخر میں فیصلہ کرتا ہوں کہ اسے گرا دوں اور پھر مقررہ مقدار ڈال کر پیوں لیکن ساتھ ہی مجھے یہ بھی خیال ہے کہ یہ مخالف جو سمجھتا ہے کہ میں خود کشی کرنے لگا ہوں اس پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ خود کشی نہیں کر رہا۔اس پر خیال کرتا ہوں کہ اسے نہیں پھینکوں گا لیکن پھر خیال آتا ہے کہ ممکن ہے اس نے اور زہر ملا دیا ہو اور پھر اسے پھینک دینے کا فیصلہ کرتاہوں مگر جب پھینکنے لگتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ یہ کہے گا کہ اگر واقعی خود کشی کرنے لگا تھا تو اور چند قطرے ملا دینے کی وجہ سے ڈر کیوں گیا۔یہ بات اس کے ارادہ کی اور زیادہ محمد ہوتی اور اس کے لئے آسانی پیدا کرتی اور واقعی جب میں پھینکنے لگتا ہوں تو وہ یہی اعتراض کرتا ہے کہ اگر واقعی آپ خود کشی کرنے لگے تھے تو پھر اسے پھینکنے کی کیا وجہ ہے مگر میں اسے گرا دیتا ہوں اور پھر اپنے ہاتھ میں بوتل لے کر اس میں سے اتنے ہی قطرے ڈالتا ہوں جو میں سمجھتا ہوں، استانی خوراک ہے اور پھر گلاس کو بھی اور بوتل کو بھی اپنے ہاتھ میں پکڑے رکھتا ہوں تاکہ میری نگاہ ادھر ادھر ہونے پر اس میں وہ پھر اضافہ نہ کر دے۔جو لوگ پرے ہٹ کر بیٹھے ہیں ان میں سے بھی بعض اپنے دوست معلوم ہوتے ہیں ان میں سے ایک کو دیتا ہوں کہ اس میں پانی یا عرق ڈال دو۔