رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 107

107 یہ رویا جو میں نے دیکھا اور ظاہر ہے کہ مومن کے لئے خود کشی کی ظاہری شکل بھی ایسی بھیانک ہے کہ رویا دیکھتے ہوئے یک لخت میری آنکھ کھل گئی اور اس کا میرے دل پر ایک عجیب بوجھ تھا۔میں اسے دل سے نکالنا اور بھلانا چاہتا تھا مگر یہ پھر غالب آجاتی تھی یہاں تک کہ میں نے اسے بھلانے کی بجائے سمجھنے کی کوشش شروع کر دی۔اور غور کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ تو ایک نہایت عجیب بات ہے اور اس خواب کی تعبیر یہ ہے کہ جب کبھی کسی مومن جماعت کو اللہ تعالیٰ قائم کرتا ہے تو اس کے سپرد ایسے کام کر دیتا ہے جنہیں لوگ خود کشی سمجھتے ہیں۔ان جماعتوں سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جانیں اپنے مال اپنے اوقات اور اپنی عزت و آبروسب کچھ قربان کر دینے کا مطالبہ کیا جاتا ہے یہاں تک کہ لوگ کہنے لگ جاتے ہیں کہ یہ پاگل ہیں اور خود کشی کر رہے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے لئے ایک نگران مقرر کرتا ہے جو اس بات کا اندازہ کرتا رہتا ہے کہ جماعت کی قربانی آخری حد سے آگے نہ بڑھنے پائے اور ان کے لئے زہر کا مترادف نہ ہو جائے بلکہ اس سے نیچے رہے اور حقیقت یہ ہے کہ سب زہر ایک مقررہ حد تک مقوّمی ہوتے ہیں۔الفضل 27 جولائی 1933 ء صفحہ 6 179 تمبر 1933ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ گول کمرہ کے پاس جو کو ٹھڑی ہے اس میں ایک بڑی چارپائی پڑی ہے اور اس پر دو عورتیں لیٹی ہیں۔وہ عورت جس کا مونہہ دیوار کی طرف ہے اسے تو میں دیکھ نہیں سکا مگر دوسری کو دیکھا کہ وہ سارہ بیگم ہیں۔اس وقت میں جانتا ہوں کہ یہ فوت ہو چکی ہیں مگر ان کو زندہ دیکھ کر سمجھتا ہوں روح ہے جو جسم میں آئی ہے۔میں ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں باہر لے آیا ہوں جہاں چھوٹے چھوٹے بچے کھیل رہے ہیں۔ان میں ہمار ا مبارک احمد بھی ہے مگر اس وقت کی شکل ہے جبکہ وہ 12/11 سال کا تھا۔ان بچوں کے سامنے کھڑے ہو کر میں نے کہا دیکھو کیا یہ معجزہ نہیں کہ روح ہے جو جسم میں آئی ہے۔یہ کہنے کے ساتھ ہی معا مجھے خیال آیا کہ یہ چیز تو خدا تعالیٰ نے مجھے دکھانے کے لئے بھیجی تھی میں نے دوسروں کو دکھادی یہ کھوئی نہ جائے۔ادھر میرے کہنے پر ان بچوں نے آنکھ اٹھا کر دیکھا ادھر جسم غائب ہو گیا۔الفضل 3۔اکتوبر 1933 ء صفحہ 6