رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 105
105 وہ بیمار تو میری عدم موجودگی میں ہوئے تھے اس لئے وفات خواہ میری موجودگی میں ہوئی یہ رویا پورا ہو گیا مگر رویا میں یہ تھا کہ میں پہاڑ پر نہیں ہوں بلکہ میدانی علاقہ میں ہوں اور وفات میری غیر حاضری میں ہوئی ہے پھر جس دن سارہ بیگم کی وفات ہوئی تو میری زبان پر تھا مرد قادیان یا مرده قادیانی میں نے اس سے خیال کیا کہ مخالفین جو کہتے ہیں قادیان مردہ باد شاید اس سے یہ مراد ہو کہ کوئی مخالف ہمارے خلاف کوئی کتاب لکھے گا یا لیکچر دے گا اور یہ خیال استنا غالب تھا کہ جب مجھے بیماری کا تار پہنچا تو پھر بھی اس طرف میرا خیال نہیں گیا۔الفضل یکم جون 1933ء صفحہ 7 جون 1933ء 177 حضور نے حضرت سارہ بیگم صاحبہ مرحومہ کے لئے دعا کے سلسلہ میں چند اشعار دعائیہ و اظہار حال لکھے۔اس ضمن میں فرمایا۔آخر میں جس احساس کا ذکر ہے اس کے متعلق اس نظم کے بعد ایک رؤیا دیکھی جس سے دل کو ایک حد تک تسلی ہوئی۔گورو یا اس رنگ میں نہ تھی کہ اس سے لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِی کا مفہوم پورا ہوتا ہے لیکن پھر بھی دعا کی قبولیت کی ایک ظاہری نشانی ضرور تھی مگر میں رویا کے معاملہ کو اپنے مضمون کے تتمہ کے لئے اٹھا رکھتا ہوں۔الفضل 9۔جولائی 1933ء صفحہ 2 178 جولائی 1933ء فرمایا : میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ ایک کمرہ ہے جس کی بہت سی مشابہت اس گول کمرہ سے ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعوئی سے پہلے مہمانوں اور اپنے آرام کے لئے بنوایا تھا۔ہم چھوٹے چھوٹے تھے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس میں مہمانوں کے ساتھ کھانا کھایا کرتے تھے اگر مجالس مسجد میں نہ فرماتے تو وہاں بیٹھتے تھے۔رویا میں مجھ پر یہ اثر تو نہیں کہ یہ وہی گول کمرہ ہے مگر مشابہت اس سے ضرور ہے میں دیکھتا ہوں کہ میں اس کے اندر ہوں وہاں ایک میز پڑی ہے۔ایک کرسی اس کے ایک طرف اور ایک دوسری طرف ہے شاید کوئی تیسری بھی ہو مگر مجھے اس وقت خیال نہیں۔جو کرسی شمال کی طرف ہے اس