رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 89

89 وسیع ہے اتنی وسیع تو نہیں کہ جہاں تک نظر جاتی ہے مگر بہت وسیع ہے دور تک پھیلی ہوئی ہے نمازی بھی بہت کثیر ہیں جن کو میں نے تین نصیحتیں کی ہیں۔پہلی تو میں بھول گیا ہوں دوسری یہ کہ جماعت کے لوگوں کو چاہیے مرکزی کاموں میں زیادہ دلچسپی لیں اور تیسری یہ کہ ہمارے لئے ضروری ہے کہ اپنی آئندہ نسلوں کی صحت کا خیال رکھیں اور نصیحت کرتے ہوئے میں نے یہ الفاظ کے ہیں کہ ہماری آئندہ نسلوں کے لئے ہماری نسبت ہزار گنا زیادہ کام در پیش ہے جس کے اٹھانے کے لئے ان کے کندھے اتنے ہی چوڑے ہونے چاہئیں۔یہ خواب ایک بہت بڑی بشارت بھی اپنے اندر رکھتی ہے اور وہ یہ کہ جب ہماری اگلی پود کام کرنے کے قابل ہو گی تو اس وقت جماعت لاکھوں میں سے بڑھ کر کروڑوں تک پہنچ جائے گی مگر اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جسمانی صحت کا بھی خاص طور پر خیال رکھنا چاہئے۔الفضل 15 - دسمبر 1925ء صفحہ 5 8 جنوری 1926ء 155 فرمایا : میں آج صبح نماز کے بعد کچھ دیر کے لئے لیٹ گیا تو میں نے ایک عجیب نظارہ دیکھا اس کے کئی حصے ہیں لیکن چونکہ میرے نزدیک بعض حصوں کا ایسا بین تعلق جماعت کے ساتھ نہیں ہے اس لئے میں انہیں چھوڑتا ہوں اور صرف اس حصہ کو لیتا ہوں جس کا میرے نزدیک جماعت کے ساتھ تعلق ہے اور جس میں جماعت کو اس کے فرائض کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور جس میں جماعت اس کی آئندہ ترقیات کے متعلق بعض باتیں ہیں۔ایک لمبی خواب کے دوران میں نے اپنے آپ کو ایک لمبے دالان میں دیکھا جو اتنا ہی لمبا تھا جتنے لمبے دالان بڑے بڑے اسٹیشنوں مثلاً لا ہو ر امر تسر دہلی وغیرہ کے ہیں میں اس میں مل رہا تھا کہ میں نے دیکھا خان صاحب منشی فرزند علی صاحب بھی وہاں آگئے ہیں جو میرے ملنے کو دیکھ کر اور میری حالت پر نظر کر کے اور میرے بعض افکار سے متاثر ہو کر میرے ساتھ ملنے لگ گئے اور مجھ سے دریافت کیا کہ آپ اس طرح کیوں مل رہے ہیں۔اس وقت جو خیالات اور افکار میرے قلب میں موجزن تھے میں ان سے متاثر ہو کر جیسا کہ عام قاعدہ ہے کہ جب کوئی انسان نہایت ہی متاثر کر دینے والے افکار اور جذبات پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے اور احساسات کو ابھارنے