رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 90
90 والے خیالات کی ادھیڑ بن میں ہوتا ہے تو بسا اوقات وہ اپنی طاقت کا ایک حصہ جذبات کے دہانے اور ان کے غبار بن کر آنکھوں کے رستہ ٹپک پڑنے کو روکنے کی کوشش میں صرف کرتا ہے لیکن اگر کوئی اور شخص آکر اس سے بات چھیڑ دیتا ہے تو چونکہ اسے اپنی توجہ کا ایک حصہ اس شخص کی طرف لگانا پڑتا ہے اس لئے اس کا اپنی طبیعت پر سے قابو جاتا رہتا ہے اور جونہی وہ اس کا جواب دینے کی کوشش کرتا ہے اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑتے ہیں۔اس وقت میں نے اپنی حالت کو ایسا ہی پایا۔میں سمجھا اگر میں ان کے سوال کا جواب دینے لگا تو اس کے ساتھ ہی مجھے اس وقت اپنے نفس پر جو قابو ہے وہ جاتا رہے گا اور جن جذبات کو میں نے روکا ہوا ہے وہ اہل پڑیں گے اور آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑیں گے۔یہ خیال کر کے میں نے ان کے سوال کا جواب دینے سے قبل چاہا کہ میں اپنے جذبات کو اس قدر وبالوں اور ان پر اتنا قابو پالوں کہ بغیر آنسوؤں کے ٹیکنے کے ان کو جواب دے سکوں۔میں اس کوشش میں تھا کہ میں نے دیکھا ایک تیسرا شخص ہمارے درمیان آگیا اور اس نے بہت جلدی میری حالت کا اندازہ کر کے خان صاحب منشی فرزند علی صاحب کے کان میں کہنا شروع کیا کہ ان کی آنکھوں میں نمی ہے۔مجھے اس شخص کی یہ بات بہت بری معلوم ہوئی کیونکہ اس قسم کی حالت بھی ایک راز ہوتا ہے اور مجھے یہ گراں گزرا کہ اس راز کو کیوں ظاہر کر دیا۔پھر میں نے خان صاحب منشی فرزند علی صاحب کو جواب دینا شروع کیا میں نے انہیں کہا میرے افکار کا باعث یہ ہے کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی ایک رؤیا دیکھی ہے۔اس وقت یوں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک پرانی رویا ہے جو ایک کاپی میں آج تک پوشیدہ تھی اور اس وقت میں نے دیکھی ہے میں نے انہیں کہا کہ اس رویا کا میرے قلب پر اثر ہے۔جو نہی کہ میں یہ بات ان سے کہتا ہوں اور وہ رو یا بیان کرتا ہوں اس رویا کے واقعات ظاہری طور پر آنکھوں کے سامنے سے اس طرح گزرتے جاتے ہیں جس طرح سینما میں تصاویر حرکت کرتی ہیں بعینہ اسی طرح وہ سارا نظارہ جو رویا میں بیان ہوا آنکھوں کے سامنے گزرتا ہے اور اگرچہ میں نے وہ رو یا کسی کاغذ یا کاپی پر لکھی ہوئی دیکھی تھی لیکن جب میں اسے بیان کرتا ہوں تو بعینہ وہی نقشہ آنکھوں کے سامنے سے گذر جاتا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے رویا میں بیان کیا۔میں دیکھتا ہوں کچھ لوگ ہیں جماعت کے جو گروہ در گروہ کھڑے ہیں۔چند یہاں ہیں چند وہاں ہیں۔چند پرے ہیں چند اس