رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 86
86 فرمایا : سخت گرمی کے ایام تھے اور میں نے روزہ رکھا ہوا تھا اس دن مجھے روزہ سے اتنی سخت تکلیف ہوئی کہ میں بے تاب ہو گیا اس بے تابی کی حالت میں مجھ پر کشفی حالت طاری ہو گئی اور میں نے دیکھا کہ ایک شخص نے میرے منہ میں پانی ڈال دیا ہے جس میں کچھ مٹک بھی ہے۔جب یہ حالت جاتی رہی اور آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ مشک کی میرے منہ سے خوشبو آرہی تھی اور اس کی تراوت میرے رگ وریشہ میں ایسی اثر کر گئی تھی کہ پیاس کا نام و نشان تک نہ تھا۔الفضل 3۔اکتوبر 1958ء صفحہ 6۔نیز دیکھیں۔تفسیر کبیر جلد چہارم صفحہ 194 - الفضل 15۔جنوری 1947ء صفحہ 3 - 2 $1924 147 فرمایا : میر صاحب میر ناصر نواب صاحب ناقل) کو تندرست دیکھا جس کے معنے موت کے ہیں کیونکہ بڑھاپے سے تندرستی بعد الموت ہی حاصل ہو سکتی ہے الفضل 25۔دسمبر 1924ء صفحہ 8 1924 148 فرمایا : میں نے دیکھا کہ میری ایک بائیں داڑھ ہل گئی ہے اور تعبیر میں داڑھ سے مراد عورت ہوتی ہے۔الفضل 25 دسمبر 24 صفحہ 6 $1924 149 فرمایا : جہاز میں ایک عورت کی زور زور کے ساتھ چیخوں کی آواز سنی اور وہ تاریخ وہی تھی جس میں میری دوسری بیوی کے ہاں لڑکا پیدا ہوا۔میں نے جہاز کے سوراخوں سے دیکھا کہ کیا کوئی جہاز آ رہا ہے جس سے یہ آواز آئی یا کوئی خشکی قریب ہے لیکن سمندر میں بالکل خاموشی تھی اور سینکڑوں میل تک اس تاریخ کو کوئی جہاز نہ تھا اور خشکی بھی ایک طرف تو سینکڑوں میل اور دوسری طرف ہزاروں میل دور تھی تب میں نے سمجھا کہ کوئی حادثہ ہوا ہے یا ہونے والا ہے۔میں نے حافظ روشن علی صاحب سے بھی اس واقعہ کا ذکر کیا کہ اس طرح تین چار دفعہ میں نے چیخوں کی آواز سنی ہے اور یہ بھی حافظ صاحب سے میں نے کہہ دیا تھا کہ آواز عورت کی تھی۔الفضل 25 - دسمبر 1924 ء صفحہ 6۔نیز دیکھیں۔الفضل 3۔جنوری 1925ء صفحہ 8