رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 87

87 150 غالبا 8 دسمبر 1924ء فرمایا : وفات (حضرت سیدہ امتہ الحی مرحومہ کی وفات۔ناقل) سے دو دن پہلے دیکھا کہ حضرت مولوی صاحب خلیفہ اول تشریف لائے ہیں اور میرے پاس چارپائی پر بیٹھ گئے ہیں۔ان کا رنگ بالکل زرد ہے آپ نے میرے پاؤں کی جراب کو پکڑا اور فرمایا۔یہ جراب تو بالکل بوسیدہ ہو گئی ہے پھر اس میں سے ایک دھاگا نکالا اور اسے ذرا کھینچا تو وہ بالکل ٹوٹ گیا اور کچھ روئی سی نکل آئی اور فرمانے لگے یہ تو بالکل بوسیدہ ہے دیکھو اس کے تو تاگے بھی اب بوسیدہ ہو گئے ہیں۔میں نے کہا کہ اس کا یہاں علاج نہیں ولایت میں تو اس کا علاج ہو سکتا ہے۔اس سے بھی میں نے یہی نتیجہ نکالا کہ وفات کے دن اب بالکل تقریب معلوم ہوتے ہیں۔مولوی صاحب پر بھی اس واقعہ کا اثر ہوا ہو گا جو ان کے زرد رنگ سے معلوم ہوتا ہے جراب سے مراد بیوی ہی تھی جو اس حد تک کمزور ہو گئی تھی کہ اب وہ بچ نہیں سکتی ہاں یہ معلوم ہو تا ہے کہ ولایت میں ایسی امراض کا علاج ہو سکتا ہے یا شاید اس کا کوئی اور مفہوم ہو۔(الفضل 3- جنوری 1925ء صفحہ 8) دسمبر 1924ء 151 فرمایا : میں نے دیکھا کہ ایک عورت فوت ہو گئی ہے اور میں جنوب کی طرف دوڑا ہوں۔وہاں دیکھا کہ میر صاحب (مرحوم) لیٹے ہوئے ہیں اور وہاں کچھ شور ہو رہا ہے اور میں منع کر رہا ہوں کہ میر صاحب ضعیف اور کمزور ہیں ان کو تکلیف ہو گی تب میر صاحب اٹھ کر بیٹھ گئے اور کہا نہیں۔میں تو بالکل اچھا اور تندرست ہوں۔تب میں نے سمجھا کہ بڑھاپے سے صحت پانا تو اس دنیا کی بات نہیں اور اس عورت کی وفات سے میری بیوی کی طرف اشارہ تھا چنانچہ ان کی قبر بھی میر صاحب کے پاس بنائی گئی۔الفضل 25۔دسمبر 1924ء صفحہ 6 دسمبر 1924ء 152 فرمایا : میری پہلی بیوی جو ہیں ان کے بچے کی وفات سے چند روز پہلے بھی میں نے ایک رویا