رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 85

85 ایسی تکلیف کی طرف اشارہ تھا جس کے ازالہ کے لئے انسانی کوشش اور سعی کو دخل ہے چنانچہ کل میری بیوی کا لڑ کا فوت ہو گیا اور لڑکوں کا قائم مقام مائیں ہو سکتی ہیں لیکن ماؤں کے قائم مقام بچے نہیں ہو سکتے اس لئے مجھے دوسری بیوی کے مکان کی تیاری میں آدمیوں کو کام کرتے نہیں دکھایا گیا اس کی تیاری محض خدا کے فضل پر منحصر ہے یہ رویا جس دن میں نے دیکھی اسی روز میں یہ نے اپنی دوسری بیوی کو سنا بھی دی اور اسی کے گھر میں میں نے یہ خواب دیکھی تھی اور بھی کئی رو یا ان مصائب اور مشکلات کے متعلق ہوئیں۔الفضل 25۔دسمبر 1924ء صفحہ 5-6 145 اگست 1924ء فرمایا : جب ہم دمشق گئے تو اول تو ٹھرنے کی جگہ ہی نہ ملتی تھی مشکل سے انتظام ہوا مگر دو دن تک کسی نے کوئی توجہ نہ کی۔میں بہت گھبرایا اور دعا کی کہ اے اللہ ! پیشگوئی جو دمشق کے متعلق ہے کس طرح پوری ہو گی۔اس کا یہ مطلب تو ہو نہیں سکتا کہ ہم ہاتھ لگا کر واپس چلے جائیں تو اپنے فضل سے کامیابی عطا فرما۔جب میں دعا کر کے سویا تو رات کو یہ الفاظ میری زبان پر جاری ہو گئے۔عَبْدٌ مُكَوم یعنی ہمارا بندہ جس کو عزت دی گئی اس سے میں نے سمجھا کہ تبلیغ کا سلسلہ یہاں کھلنے والا ہے چنانچہ دوسرے ہی دن جب اٹھے تو لوگ آنے لگے یہاں تک کہ صبح سے رات کے بارہ بجے تک دو سو سے بارہ سو تک لوگ ہوٹل کے سامنے کھڑے رہتے۔الفضل 4۔دسمبر 1924ء صفحہ 6 $1924 146 فرمایا ایک دفعہ میں روزے میں تھا اور مجھے پیاس کی سخت تکلیف تھی جب وہ تکلیف حد سے بڑھ گئی تو میں نے دعا کی اور میں نے دیکھا کہ معا ایک غنودگی کی حالت مجھ پر طاری ہوئی اور ایک پیاس بجھانے والی چیز میرے منہ میں ڈالی گئی۔یہ کیفیت ایک سیکنڈ کی تھی اس کے بعد وہ حالت بدل گئی اور میں نے دیکھا کہ وہ پیاس کی حالت جاتی رہی اور یوں معلوم ہوا کہ جس طرح خوب پانی پی لیا ہے۔احمدیت یعنی حقیقی اسلام۔صفحہ 244 - 245