رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 80
80 80 نے وہ مکان دیکھ لیا جس کو آگ لگی ہوئی ہے۔ایسا معلوم ہو تا ہے جیسے کوئی بنک یا منڈی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ ہماری نہیں بلکہ لوگوں کی ہے۔میں اس کو دیکھ کر کہتا ہوں کہ یہاں تو آگ لگنی ہی تھی۔اس کے بعد وہاں اس طرح کھڑا ہو گیا ہوں جس طرح انسان کسی عجیب نظارہ کو دیکھ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔اتنے میں ایک شخص نے ایک سکہ میری جیب میں ڈالا۔اس نے پشت کی طرف سے ڈالا تھا مگر اس وقت جو اس اتنے تیز تھے کہ مجھے نظر آگیا میں نے اس کو پکڑلیا اور کہا کہ تو جھوٹا سکہ میری جیب میں ڈال کر مجھے پکڑوانا چاہتا تھا اور کچھ پولیس مین جو اس آگ کی وجہ سے ہی وہاں جمع ہیں ان میں سے ایک کو بلا کر اس کو پکڑوا دیا۔اس کے بعد کچھ اور نظارہ جو اسی تسلسل میں تھا جس کا بیان کرنا مناسب نہیں دیکھا اور اس کے بعد آنکھ کھل گئی ہے۔الفضل 5۔فروری 1924ء صفحہ 5 137 $1924 فرمایا : میرے نزدیک غیر مبائین کا جنازہ پڑھنا جائز ہے میں نے شیخ رحمت اللہ صاحب کا جنازہ پڑھا تھا میں نے رویا میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ان پر ناراض دیکھا۔میں نے متواتر دیکھا کہ حضرت صاحب ان کی طرف ناراضگی کی وجہ سے نہیں دیکھتے اور یہ بتایا گیا کہ ان کو غلطی لگی ہوئی ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہی خدمت دین ہے۔ان کی وفات کے متعلق بھی اللہ تعالی نے مجھے بتایا تھا میں نے ان کے مرنے سے پہلے رویا میں دیکھا۔وہ آئے ہیں اور مجھے کہتے ہیں چلو صلح کی تدبیر نکالی ہے۔میں ان کے ساتھ چلا گیا اور لوگ بھی تھے مولوی محمد علی صاحب بھی تھے۔باتیں ہونی شروع ہوئیں۔مولوی محمد علی صاحب نے کچھ ایسی باتیں کیں جن معلوم ہو تا تھا کہ صلح نہیں ہو سکتی۔شیخ صاحب اس پر ایک طرف کونے میں جابیٹھے۔ان کا چہرہ افسردہ ہو گیا اور کہنے لگے اچھا آپ لوگوں کی مرضی۔زندگی کا کوئی اعتبار نہیں ہم مر گئے تو ہمارے بچے بھی احمدی نہیں رہ سکتے۔میں نے یہ خواب اس وقت بعض دوستوں کو سنائی تھی۔اس سے معلوم ہو تا تھا کہ شیخ صاحب اب فوت ہو جائیں گے حالانکہ جو مرض ان کو تھی وہ کوئی ایسی خطرناک صورت میں نہ تھی۔الفضل 16۔فروری 1926ء صفحہ 8