رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 81

81 138 $1924 فرمایا : میں نے کئی رویا میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا کہ وہ دوسرے لوگوں کی طرف سے منہ پھیرے ہوئے ہیں لیکن شیخ رحمت اللہ صاحب کی طرف کنکھیوں سے محبت سے دیکھ رہے ہیں ان کے متعلق میں نے بھی ایک رویا دیکھا تھا جو اس بات پر دلالت کرتا تھا کہ وہ ٹھو کر کھا جائیں گے۔الفضل 31۔جولائی 1949ء صفحہ 5 $1924 139 شیخ رحمت اللہ صاحب کے نام ایک مکتوب میں لکھا۔میں نے بارہا حضرت مسیح کو رویا میں دیکھا ہے اور معلوم کیا ہے کہ جہاں وہ میرے بعض مخالف لوگوں پر ناراض ہیں آپ سے کم ناراض ہیں صرف دوستانہ گلہ آپ سے رکھتے ہیں۔مجھے بعض اور خوابوں سے بھی آپ کے دل کی حالت بعض دوسرے لوگوں کی نسبت اچھی دکھائی گئی ہے۔فرمایا۔میں نے آپ کی دلی خواہش اور غالبا آپ کی بیماری کو پچھلے دنوں ایک رؤیا کے ذریعہ معلوم کیا تھا جو مفتی صاحب کو میں سنا چکا ہوں۔غالبا ان کو یاد ہو گی۔(الفضل 14 مارچ 1924ء صفحہ 1) 1924 140 فرمایا : یہ رویا اسی سال کی ہے مگر ولایت جانے کی تحریک سے دو تین ماہ پہلے کی ہے یہ خواب بھی میں نے اسی دن دوستوں کو سنادی تھی جن میں سے ایک مفتی محمد صادق صاحب بھی ہیں۔میں نے دیکھا کہ میں انگلستان کے ساحل سمندر پر کھڑا ہوں جس طرح کہ کوئی شخص تازه وارد ہوتا ہے اور میرا لباس جنگی ہے میں ایک جرنیل کی حیثیت میں ہوں اور میرے پاس ایک اور شخص کھڑا ہے اس وقت میں یہ خیال کرتا ہوں کہ کوئی جنگ ہوئی ہے اور اس میں مجھے فتح ہوئی ہے اور میں اس کے بعد میدان کو ایک مدبر جرنیل کی طرح اس نظر سے دیکھ رہا ہوں کہ اب مجھے اس فتح سے زیادہ سے زیادہ فائدہ کس طرح حاصل کرنا چاہئے۔ایک لکڑی کا موٹا شہتیر زمین پر