رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 69

69 وقت اپنے کپڑوں کو سونگھا تو مجھے ان میں خوشبو معلوم نہیں ہوئی۔میں نے اسی حالت رویا میں سمجھا کہ اس خوشبو سے مراد وہ خطبے ہیں جو میں نے ایمان کی مضبوطی کے لئے بیان کئے ہیں ایمان کو خوشبو سے تعبیر کیا گیا ہے چونکہ میں ایمان کو دنیا میں پھیلانا چاہتا ہوں اس لئے اس شخص نے کہا کہ چونکہ تم خوشبو سے محبت رکھتے ہو اس لئے میں تم سے محبت رکھتا ہوں ورنہ ظاہری طور پر اس وقت میرے کپڑوں کو خوشبو نہیں لگی ہوئی تھی۔اس وقت میں سمجھا کہ یہاں خوشبو سے مراد یہ خطبات ہیں جن میں دعوت ایمان دی گئی ہے۔الفضل 14۔نومبر 1921ء صفحہ 5 - 6 *1921 117 فرمایا : میں نے رویا دیکھی ہے جس کا مضمون تو بہت تھا مگر اس میں سے یاد صرف تھوڑا سارہ گیا ہے۔میں نے پیغامیوں کو دیکھا۔بحث ایسی معلوم ہوتی ہے کہ جس میں گویا وہ مجھ پر الزام لگاتے ہیں کہ میں حضرت اقدس کے درجہ کو بڑھاتا ہوں۔میں نے ان کو کہا کہ اس کا فیصلہ تو بہت آسان ہے کہ وہ قسم کھا کر یا تو یہ اعلان کر دیں کہ 1۔وہ حضرت صاحب کو ظلی بروزی نبی نہیں سمجھتے۔2۔یا قسمیہ یہ اعلان کر دیں کہ میں حضرت صاحب کو ظلی بروزی نبی سے بڑھ کر سمجھتا ہوں۔الفضل 28 نومبر 1921ء صفحہ 6 23 نومبر 1921ء 118 نماز سے فارغ ہو کر شیخ نواب الدین صاحب افسر ڈاک سے مخاطب ہو کر فرمایا۔لاہور سے مباحثہ کے متعلق کوئی اطلاع آئی ہے۔شیخ صاحب نے عرض کیا اس وقت تک کوئی اطلاع نہیں آئی۔فرمایا۔میں نے ایک رؤیا دیکھی ہے اور اس کا سلسلہ قریباً ساری رات ہی جاری رہا جس میں معلوم ہوتا ہے کہ وفد گاڑی سے رہ گیا۔اس سے بہت پریشانی سی معلوم ہوئی۔چونکہ میاں عبد السلام صاحب (ابن حضرت خلیفۃ المسیح الاول) بھی ساتھ تھے۔وہ سامنے آئے۔جب یہ نظارہ دیکھتا ہوں تو آخر میں زور سے کہتا ہوں " سلام "۔اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔اس کا کیا مطلب ہے کہیں خدانخواستہ آپس ہی میں کوئی اختلاف نہ ہو گیا ہو۔فرمایا کہ گاڑی سے رہ جانے کے معنے یہی ہیں