رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 70
70 کہ آپ (شیخ نواب الدین صاحب) نہیں گئے اور آخر سلام کے معنے یہ کہ آریہ کتنی ہی معاہدہ شکنی کریں لیکن انجام سلامتی ہو گا۔الفضل 5۔جنوری 1922ء صفحہ 9 $1921 119 فرمایا : میں نے خود کئی دفعہ اللہ تعالیٰ کو انسانی شکل میں دیکھا ہے اور مضمون رویا کے مطابق اس کی شکل مختلف طور پر دیکھی ہے۔میں ہرگز نہیں سمجھتا کہ وہ شکل خدا تھی یا اس میں خدا حلول کر آیا تھا لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کا ایک جلوہ تھا اور اسی رؤیا کے مضمون کے مطابق الہی صفات کی جلوہ گری پر دلالت کر رہی تھی اور وہ ایک رؤیت تھی مگر تصویری زبان میں اور اس تعلق کو ظاہر کرتی تھی جو اللہ تعالیٰ کو مجھ سے یا ان لوگوں سے تھا جن کے متعلق وہ رویا تھی۔حق الیقین صفحہ 73 (مطبوعہ 1921ء) $1921 120 فرمایا : اس (سیدہ امتہ الحی صاحبہ مرحومہ۔ناقل ) کی وفات کے متعلق تو مجھے پہلے ہی اطلاع ہو گئی تھی۔تین سال ہوئے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ وہ سفید کپڑے پہنے ہوئے میرے پاس آئی ہے اور السلام علیکم کہہ کر کہنے لگی ” میں جاتی ہوں اور اس کے بعد جلدی جلدی گھر سے نکل گئی۔میں نے میر محمد اسماعیل صاحب کو اس کے پیچھے روانہ کیا تو انہوں نے واپس آکر بتایا کہ وہ بہشتی مقبرہ کی طرف چلی گئی ہے۔الفضل 3۔جنوری 1925ء صفحہ 8 $1921 121 فرمایا : کشمیر جب میں گیا ہوا تھا تو وہاں میں نے ایک رات دیکھا کہ میں ایک پہاڑی کی طرف جا رہا ہوں اور ایک شعر میری زبان پر جاری ہے وہ شعر تو مجھے یاد نہیں رہا مگر اس کا مطلب یاد ہے و یہ ہے کہ گویا وہ طور پہاڑ ہے اور میں اس مضمون کا شعر پڑھ رہا ہوں۔طور پر خدا جلوہ گر ہے۔میں اس جلوہ کو خود دیکھتا ہوں اور دوسروں کو دکھاتا ہوں۔صبح کو جب میں اٹھا تو وہ شعر بھول گیا مگر مضمون یاد تھا اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ نظم کہہ دوں اس نظم کا اکثر حصہ تو