رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 60
60 60 سے بچنے کی نصیحت کی ہے اور ان کے فرائض کی طرف توجہ دلائی ہے۔الفضل 18۔اکتوبر 1920ء صفحه 9 25۔دسمبر 1920ء 100 فرمایا : چند دن ہوئے میں نے ایک نظارہ دیکھا جس میں مجھے بتایا گیا کہ بعض لوگوں کو کچھ ابتلاء آئے ہیں۔اس کو دیکھ کر میری طبیعت بہت گھبرائی اور میں خدا تعالیٰ کے حضور جھکا اور گرا اور کہا کہ خدا تعالیٰ ان پر رحم کرے ان کے گناہوں کی پردہ پوشی کرے اور ان کے گناہوں کو مٹادے۔اس دعا کے بعد کہ جلسہ کے دن قریب تھے بلکہ آہی گئے تھے یعنی پرسوں کی بات ہے کہ میں نے دیکھا۔میں بیٹھا ہوا ہوں اور ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب جو میرے ماموں ہیں وہ آئے ہیں۔میں نے ایک لمبے تجربہ کے بعد یہ بات معلوم کی ہے کہ اسماء کے ساتھ رویا اور کشوف کا خاص تعلق ہوتا ہے اور مجھے جو خداتعالی سے قبولیت کا تعلق ہے اس کے متعلق میں نے دیکھا ہے کہ اٹھانوے فیصدی انہیں کو دیکھتا ہوں۔ان کا نام ہے "اسمعیل جس کے معنے ہیں خدا نے سن لی۔جب میں کوئی دعا کرتا ہوں تو یہی مجھے دکھائے جاتے ہیں۔ہاں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ خدا کسی ملک کے ذریعہ بتا دیتا ہے اور کبھی خود جلوہ نمائی کرتا ہے۔تو میں نے دیکھا کہ وہ آئے ہیں اور ہشاش بشاش ہیں اور کہتے ہیں کہ لوگ آرہے ہیں اور وہ اتنے خوش معلوم ہوتے ہیں اور آنے والوں کا ایمان اتنا ترقی یافتہ ہے کہ انہوں نے ان کے چہروں سے دیکھ لیا ہے جیسا کہ قرآن کہتا ہے کہ نوران کے چہروں سے ٹپکتا ہے۔جب انہوں نے یہ کہا کہ لوگ آرہے ہیں اور ایمان اور اخلاص کے ساتھ آرہے ہیں تو اسی وقت جوش سے میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہو گئے کہ اللَّهُمَّ زِدْ فَزِدْ عَلَى نَهْجِ الصَّلَاحِ وَالْعِفَّةِ اے اللہ ان کو زیادہ کر ایمان اور اخلاص میں پھر زیادہ کر ایمان اور اخلاص میں اور یہ پھر آدیں مگر مٹی کے رستوں پر چل کر نہیں بلکہ نیکی اور اخلاص اور ترقی کے راستوں پر چل کر آئیں۔اس کے بعد آنکھ کھل گئی اور اس طرح خدا تعالیٰ نے مجھے تسلی دی۔ملائكة اللہ صفحہ 6-5 ( تقریر 28 - دسمبر 1920 ء جلسہ سالانہ )