رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 59

59 پڑھ کر نہایت حیرت ہوئی کہ یہ کون صاحب ہیں اور خوشی ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے کس غیر معمولی طور پر رویا پوری کی۔یہ تار چونکہ خواب کو پورا کرنے والی تھی حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے مناسب سمجھا کہ اب ضرور ڈلہوزی چلے جانا چاہئے۔اتفاقاً اس وقت معلوم ہوا کہ کرایہ مکان بھیج کر راستہ کے اخراجات کے لئے بھی روپیہ کافی نہیں بچتا اس لئے حضور نے اپنے ساتھیوں سے دریافت کرایا تو ان کے پاس بھی روپیہ کافی نہ ملا۔آخر تجویز ہوئی کہ یہاں سے کسی دوست سے کچھ روپیہ قرض لے لیا جاوے جو راستہ کے لئے کفایت کرے اور ڈلہوزی روپیہ منگوا کر قرض اتار دیا جاوے یہ تجویز کر کے ہم سیر کو گئے تو وہاں سے لوٹتے وقت ڈاک خانہ سے روپیہ ملا جو بیمہ خطوں کے ذریعہ آیا تھا اور جو اس وقت کی ضروریات کے لئے کافی تھا اور جس کے آنے سے قرض کی ضرورت باقی نہ رہی۔اور تعجب یہ ہے کہ پچھلے بارہ دنوں میں کوئی رقم یہاں نہ آئی تھی کیونکہ منی آرڈروں کے متعلق حضور ہدایت دے آئے تھے کہ قادیان میں ہی وصول کئے جاویں کیونکہ اکثر روپیہ چندہ کا ہوتا ہے یہاں آکر اس کا واپس کرنا خرچ کا باعث ہو گا۔اس پر اس خواب کے دوسرے حصہ کے پورا ہونے پر اور بھی متعجب ہوا کہ کس طرح لفظاً لفظاً پوری ہوئی۔آج صبح مکرمی شیخ یعقوب علی صاحب کی طرف سے ایک منی آرڈر سو روپیہ کا بذریعہ تار آیا جس سے شیخ یعقوب علی صاحب کو خواب میں دیکھنے کی تعبیر بھی پوری ہوئی اور ایمان کو اور تازگی ہوئی۔اس خواب کے بہت سے پہلو تھے اور وہ غیر معمولی طور پر حالات کے خلاف اس صفائی سے پورے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت نمائی کا نظارہ دیکھ لیا۔الفضل 23۔اگست 1920ء صفحه 6 99 1920 فرمایا : مجھے ایک تحریک ہوئی تھی اس کے ماتحت میں نے ایک پیغام نظم کیا ہے جو ان نوجوانوں کے نام ہے جو کالجوں میں ہیں یا فارغ ہو کر نکل چکے ہیں۔سکول کے بڑے طلباء بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔چونکہ قادیان والوں کا پہلا حق ہے اس لئے پہلے انہی کو سنایا جاتا ہے اور اس میں میں نے جہاں تک عیب نوجوانوں میں معلوم کر سکا ہوں وہ سب بتائے ہیں اور ان