رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 57
57 مجھے سخت غصہ آیا اور میں ان کے پاس گیا کہ انہیں منع کروں لیکن جاکر دیکھا تو معلوم ہوا کہ سجدہ نہیں کر رہے ہیں بلکہ گال زمین پر رکھ کر لیٹے ہوئے آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں اور آگے بڑھتے جا رہے ہیں۔میں نے بھی آسمان کی طرف دیکھا تو مجھے ایک بہت بڑی آبادی نظر آئی اور اس جگہ خاصی روشنی دیکھی جہاں حضرت مسیح موعود ایک کشتی کی شکل کی چیز میں بیٹھے تھے اور وہ نیچے اترنا چاہتی تھی۔ان لوگوں نے بھی کہا کہ حضرت مسیح موعود کو دیکھ رہے ہیں اس کے بعد وہ کشتی ہوائی جہاز کی طرح نیچے اتری اور میں حضرت صاحب کو تلاش کرنے لگا لیکن مجھے کہیں نہ ملے۔آخر میں سخت غمگین ہو کر کہ شاید حضرت صاحب مجھ سے ناراض ہیں کہ مجھے نہیں ملے والدہ کے پاس گیا کہ ان کے پاس آئے ہوں گے۔اس وقت میری آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے۔میں نے ان سے جا کر پوچھا اور کہا کہ حضرت صاحب مجھے نہیں ملے شاید ناراض ہیں تو انہوں نے فرمایا کہ باہر ٹانگہ پر سیر کو جارہی تھی شریف احمد میرے ساتھ تھا اور عزیز احمد کو بھی میں نے ساتھ لے لیا تھا لیکن حضرت صاحب کے آنے کا سن کر جلدی واپس آگئی ہوں مگر وہ ابھی تک مجھے بھی نہیں ملے۔اس سے میری تسلی ہوئی۔والدہ نے جب میرے آنسو دیکھے تو فرمایا یہ تو رؤیا ہے اور رویا کی تعبیر ہوتی ہے۔یہ سن کر مجھے اطمینان ہو گیا اور میں نے سمجھا کہ یہ رویا ہے اور حضرت صاحب کے نہ ملنے کی جو وجہ میں نے سمجھی تھی وہ صحیح نہیں ہے۔رویا میں مجھے اس کی تین تعبیریں سمجھائی گئیں۔میں نے کہا یا تو میں ایسی زبان میں کتاب لکھوں گا جس کے لکھنے کی مشق نہیں یا عظیم الشان تقریر کروں گا جو بے نظیر ہوگی یا کوئی بڑا نشان ظاہر ہو گا اس کے بعد آنکھ کھل گئی۔اس رویا میں تقریر کرنے کی طرف جو اشارہ ہے وہ سیالکوٹ کی اس تقریر کے متعلق معلوم ہوتا ہے جس کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔اس تقریر کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ جس وقت میں تقریر کر رہا تھا اس وقت مجھے ایسا معلوم ہوا کہ یک لخت آسمان سے نور اترا ہے اور میرے جسم میں داخل ہو گیا ہے اور پھر اس کی وجہ سے میرے جسم سے ایسی شعائیں نکلنے لگی ہیں کہ مجھے معلوم ہوا میں نے حاضرین کو اپنی طرف کھینچنا شروع کر دیا ہے اور وہ جکڑے ہوئے میری طرف کھنچے چلے آرہے ہیں۔الفضل 19۔اپریل 1920ء صفحہ 10