رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 56 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 56

56 96 $1920 فرمایا : مجھے آج تک تین اہم معاملات میں خدا تعالیٰ کی رؤیت ہوئی ہے پہلے پہل اس وقت کہ ابھی میرا بچپن کا زمانہ تھا اس وقت میری توجہ کو دین کے سیکھنے اور دین کی خدمت کی طرف پھیرا گیا اس وقت مجھے خدا نظر آیا اور مجھے تمام نظارہ حشر و نشر کا کھایا گیا یہ میری زندگی میں بہت بڑا انقلاب تھا۔دوسرا وہ وقت تھا کہ جماعت کے لوگ ایسے نقطے کی طرف جارہے تھے کہ قریب تھا کہ وہ کفر میں چلے جائیں اور اس بات کی طرف لے جانے والے وہ لوگ تھے جو سلسلہ کے دنیاوی کاموں پر قابو پائے ہوئے تھے۔مثلاً صد را انجمن احمدیہ وغیرہ انہی کے ماتحت تھیں اور یہ لوگوں میں بڑے بڑے نظر آتے تھے۔اس وقت کوشش کی جارہی تھی کہ حضرت صاحب کے دعوی کو گھٹایا جائے اگرچہ ہم نے حضرت صاحب سے آپ کے دعوئی کے متعلق خوب سنا ہوا تھا مگر اندیشہ ہوا کہ ممکن ہے ہم غلطی پر ہوں۔اس وقت میں نے خدا تعالی کو دیکھا اور مجھے حضرت صاحب کی نبوت پر یقین دلایا گیا۔تیسری دفعہ آج مجھے خدا تعالی کی رؤیت ہوئی ہے جس سے مجھے یقین ہے کہ یہ کام (تعمیر مسجد لنڈن * ناقل) مقبول ہے۔جہاں تک مجھے یاد ہے وہ یہی ہے کہ میں مسجد لنڈن کا معاملہ خدا تعالیٰ کے حضور پیش کر رہا تھا میں اللہ تعالیٰ کے حضور دو زانو بیٹھا تھا کہ خداتعالی نے فرمایا۔جماعت کو چاہئے کہ ”جد " سے کام لیں اور "ھزل" سے کام نہ لیں۔جد " کالفظ مجھے اچھی طرح یاد ہے اور اس کے مقابلہ میں دوسرا لفظ ”غزل“ اس حالت میں معا میرے دل میں آیا تھا اس کے معنے یہ ہیں کہ جماعت کو چاہئے کہ اس کام میں سنجیدگی اور نیک نیتی سے کام لے ہنسی اور محض واہ واہ کے لئے کوشش نہ کرے۔الفضل 22۔جنوری 1920ء صفحہ 8 نیز دیکھیں۔الفضل 10۔مئی 1944ء صفحہ 2 " 97 -7-6۔اپریل 1920 ء کی درمیانی شب فرمایا : میں نے دیکھا کہ ایک مکان ہے اور اس کے پیچھے گلی ہے۔میں نے دیکھا اس گلی میں کچھ لوگ سر نیچے کئے لیٹے ہیں اور مجھے ایسا معلوم ہوا کہ کسی آدمی کو سجدہ کر رہے ہیں۔اس پر " احمدیت یعنی حقیقی اسلام " سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ رویا 1920ء کی ہے۔دیکھیں کتاب مذکور صفحہ 119