رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 58

98 58 $1920 حضرت مولوی رحیم بخش صاحب (بعد عبد الرحیم درد پرائیویٹ سیکرٹری) فرماتے ہیں۔حضور نے خواب میں دیکھا کہ ڈلنوزی جا رہے ہیں پہاڑی راستے پر سے گذر رہے ہیں کہ شیخ یعقوب على صاحب ایڈیٹرا حکم ایک طرف سے تشریف لائے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ آپ لوگ کہاں جا رہے ہیں۔حضرت اقدس نے جواب دیا کہ ڈلہوزی جا رہا ہوں۔شیخ صاحب نے دریافت کیا کہ مکان مل گیا ہے۔حضرت نے جواب دیا کہ نہیں مکان تو نہیں ملا بلکہ میں نے تار دی تھی وہاں سے سب نے انکار لکھ بھیجا ہے۔یہ کہہ کر حضور اپنے دل میں سوچنے لگے کہ عجیب بات ہے کہ مکان تو وہاں ملا نہیں سب نے انکار کر دیا ہے اور میرے پاس خرچ بھی نہیں ہے پھر میں وہاں کیوں جا رہا ہوں اس سے تو بہت تکلیف ہو گی۔ان خیالات کے دل میں آتے ہی فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف سے القاء ہوا کہ خرچ کا بندو بست تو ہم کر دیں گے اور ساتھ ہی دل میں آیا کہ مکان کا بھی بند و بست ہو جاوے گا۔یہ سوچ کر حضرت اقدس آگے چلے ہی تھے کہ کچھ لوگ آئے اور انہوں نے مصافحہ کر کے کچھ روپیہ حضور کے پیش کیا لیکے بعد دیگرے کئی آدمیوں نے ایسا ہی کیا اور حضرت اقدس دل میں خیال کر رہے ہیں کہ لو یہ خرچ آ رہا ہے۔پھر کچھ اور لوگ آئے اور انہوں نے کہا کہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں آپ نیچے اتر آئیں۔اس وقت خیال گزرتا ہے کہ حضور گھوڑے پر سوار ہیں اور اتر پڑے ہیں انہوں نے ایک صف بچائی ہے اور اس پر حضور بیٹھ گئے۔ان میں سے ایک آدمی نے روپے دامن سے نکال کر حضرت کے سامنے ڈھیر کرنے شروع کر دیئے اور قطاروں میں کھڑے کرنے شروع کر دیئے۔حضور ان سے پوچھتے ہیں کہ یہ روپے کسی چندہ کے ہیں تو وہ جواب دیتے ہیں نہیں یہ آپ کے ہیں۔اس پر آنکھ کھل گئی اور حضور نے اٹھ کر یہ حصہ کہ حضور ڈلہوزی جا رہے ہیں اور اسی طرح مکان کے متعلق خیال آیا دوستوں کو سنایا اور تعبیر یہ سوچی کہ شاید اللہ تعالی چاہتا ہے کہ اس سال یہیں (دھرم سالہ۔ناقل) رہیں اگلے سال بجائے کہیں اور جانے کے ڈلہوزی چلے جائیں اور روپیہ کے متعلق حصہ نہ سنایا اس کے بعد دو دن گزرنے پر ایک تار آئی جو ایک ایسے صاحب کی طرف سے تھی جن کو ہم نہیں جانتے تھے کہ ڈلہوزی میں مکان اڑھائی سو روپیہ پر مل گیا ہے فوراً روپیہ بھیج دیں۔اس تار کو