رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 599 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 599

599 632 جنوری 1957ء فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا کہ جنرل آئزن ہاور نے میرا یا جماعت کا تعریف کے ساتھ ذکر کیا ہے یہ واقعہ ایک مجلس میں بیان ہوا تو کسی نے کہا یہ کون سی بات ہے تو اس پر میں نے کہا کہ ظاہر ہے تو بات کچھ بھی نہیں مگر اس سے یہ پتہ لگتا ہے کہ احمدیت کی اہمیت دور دور تک واضح ہو گئی ہے۔الفضل 2۔فروری 1957ء صفحہ 1 633 فروری 1957ء فرمایا : دیکھا کہ میں قادیان میں ہوں لیکن اس دفعہ میں نے اپنے آپ کو مسجد مبارک میں نہیں دیکھا بلکہ اس صحن میں دیکھا ہے جس میں پارٹیشن کے وقت ام ناصر رہا کرتی تھیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنی وفات کے قریب عرصہ میں گرمیوں میں وہاں سویا کرتے تھے اس صحن میں ایک دروازہ کھلتا ہے جو نیچے ڈیوڑھی ہے آتا ہے جو اس گلی کے ساتھ ملتی ہے جو میاں بشیر احمد صاحب کے مکان کے پہلو میں سے گزرتی تھی ایک طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پر انا مکان تھا۔دوسری طرف میاں بشیر احمد صاحب والا مکان تھا اور بیچ میں سے گلی آتی تھی اور اس کا رستہ مسجد مبارک کے نیچے سے ہو تا تھا پھر وہ گلی مرزا سلطان احمد صاحب والے مکان کی طرف چلی جاتی تھی اور رستہ میں اس کے دائیں طرف ڈیوڑھی آتی تھی اس کے اندر داخل ہونے کے بعد سیڑھیاں آتی تھیں جن کے اوپر ہمارے گھر میں راستہ ہو تا تھا میں نے دیکھا کہ ان سیڑھیوں میں کچھ حرکت ہوئی ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کچھ لوگ ہیں جو ملنے آئے ہیں اس پر میں نے جاکر کنڈی کھولی کنڈی کھولنے پر ایک ہاتھ آگے نکلا جیسے کوئی مصافحہ کرنا چاہتا ہے میں نے اس شخص کی شکل تو نہیں دیکھی لیکن ہاتھ سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ چوہدری رحمت خان صاحب کا ہاتھ ہے چوہدری رحمت خان صاحب ایک مخلص احمدی نوجوان ہیں اب تو شاید وہ نوجوان نہیں رہے بلکہ ادھیڑ عمر کے ہوں گے ) گجرات میں رہتے ہیں ان کے بھائی چوہدری غلام رسول صاحب یہاں سکول میں ماسٹر ہیں 1922ء میں میں نے جو درس دیا تھا اس میں وہ بڑے شوق کے ساتھ قادیان آگر شامل ہوئے تھے اس کے بعد میں برابر