رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 598 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 598

598 میں پیش کیا کرتے ہیں کہ انجمن ہی خلیفہ ہے تو وہ حصہ مولوی عبد الکریم مرحوم کی وفات کے بعد بنا ہے لیکن میں نے اس وقت دیکھا کہ وہ حصہ بھی مسجد میں شامل ہے مولوی عبد الکریم صاحب کھڑے تھے اور غالبا خطبہ دے رہے تھے ان کا منہ مشرق کی طرف تھا میں جب مسجد کے اندر گھسا تو میرے ساتھ ایک دو ساتھی اور بھی تھے معلوم ہوتا ہے جیسے مسجد میں گنجائش کم ہے اور آدمی زیادہ ہیں انہوں نے جب ہمیں آتے ہوئے دیکھا تو کہا لو گو بارش ہو رہی ہے ذرا سمٹ جاؤ اور رستہ دے دو۔میں گزر کر اپنے ساتھیوں سمیت اس کو ٹھڑی میں گھس گیا جس میں پہلے مولوی محمد علی صاحب رہا کرتے تھے اور بعد میں مولوی محمد اسماعیل صاحب اس میں رہتے رہے ہیں اور پھر سیڑھی پر چڑھ کر گول کمرہ کی چھت پر چلا گیا اس کے ساتھ ہی وہ مکان ہے جس میں امتہ الحی مرحومہ رہا کرتی تھی اس کی کھڑکی باہر چوک کی طرف کھلتی ہے اگر اس میں کھڑے ہو جائیں تو مسجد مبارک کے آگے کا چوک اور وہ سیڑھیاں جو نئی بنی ہیں اور وہ دکانیں جو مرزا نظام دین صاحب کی ہوتی تھیں وہ سب نظر آتی ہیں میں نے دیکھا کہ ایک عورت اس کھڑکی کے پیچھے چھپی ہوئی ہے میں سمجھتا ہوں کہ وہ یہ بتانا چاہتی ہے کہ ہم پردہ دار عورتیں یہاں بیٹھی ہیں اس وقت بارش ہو رہی ہے اور ہم نماز پڑھنا چاہتے ہیں مگر بارش کی وجہ سے چونکہ کیچڑ ہے ہم نماز نہیں پڑھ سکتے اور اس جگہ جو چھت ہے وہ بالوں والی نہیں بلکہ لوہے کی سلاخوں کی ہے جس میں سے پانی گر سکتا ہے تب میں نے کسی چیز کا سہارا لیکر جو پاس کی چھت پر لوگ بیٹھے تھے ان سے کہا کہ پاس کے کمرہ میں عورتوں سے کہہ دو کہ پردہ کر لیں تاکہ ہم کمرہ میں نماز پڑھ سکیں کیونکہ باہر بارش کی وجہ سے کیچڑ ہے پھر میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ میرا منشاء تھا کہ اس جگہ مکان کو سیع کیا جائے اور کچھ اور چھت ڈال لی جائے تاکہ نمازی اس میں آسکیں اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔فرمایا۔اس رویا میں بھی قادیان جانے کا ذکر ہے گو زیادہ تفصیل نہیں پہلی رویا میں زیادہ تفصیل تھی مگر بہر حال یہ بھی ایک مبارک رؤیا ہے اور مسجد مبارک کا دیکھنا بھی اچھا ہے۔الفضل یکم فروری 1957ء صفحہ 3-2