رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 563 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 563

563 میں نے جو خواب پچھلے دنوں امتہ الحی مرحومہ کے متعلق لکھی تھی اور کہا تھا کہ اس کی تعبیر ظاہر نہیں ہوئی اس کی تعبیر ایک نوجوان مبلغ نے لکھ کر بھیجی ہے جو میرے نزدیک بہت حد تک صحیح معلوم ہوتی ہے اور وہ یہ ہے کہ ماؤں کو اپنے بچوں سے اتنی محبت ہوتی ہے کہ باپ خواہ جائز طور پر ہی ان پر خفا ہو ان کو تکلیف پہنچتی ہے پس معلوم ہوتا ہے کہ آپ ان کے بچوں میں سے کسی پر کسی وجہ سے ناراض ہوئے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کے دل کی کیفیت دکھائی ہے واقعی اس تعبیر سے اس خواب کے بعض مشکل حصے حل ہو جاتے ہیں اور مجھے اس بات سے خوشی ہوئی کہ ہمارے بعض نوجوان مبلغ روحانی امور کی طرف بھی توجہ رکھتے ہیں۔الفضل 20۔اکتوبر 1954ء صفحہ 2 21۔اکتوبر 1954ء 596 فرمایا : میں نے دیکھا کہ ہم گویا قادیان میں ہیں میں باہر سے گھر میں داخل ہوا ہوں حضرت اماں جان) بھی وہاں گھر میں ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خطرے کے دن ہیں اور میرا با ہرا کیلا جاتا حضرت (اماں جان) کو نا پسند ہوا ہے انہوں نے اس قسم کا اظہار کیا اور میں جلدی سے اپنے حصہ مکان میں آگیا جہاں ام ناصر اور میں رہا کرتے تھے اس وقت میں اپنے آپ کو انیس بیس سال کا محسوس کرتا ہوں میں نے کمرہ میں داخل ہو کے اندر سے کنڈی لگانے کی کوشش کی۔اس خیال سے کہ حضرت اماں جان آکر خفا نہ ہوں جب میں کنڈی لگا رہا تھا تو صحن میں حضرت (اماں جان) آگئیں اور باہر سے آواز دیکر ام ناصر سے کچھ کہا جس کا مفہوم ایسا ہی تھا کہ انہوں نے کیسی بے احتیاطی کی ہے کہ باہر اکیلے چلے گئے یا ایسے وقت میں چلے گئے۔حضرت (اماں جان) کے چلے جانے کے بعد پھر میں کمرے سے باہر آیا اور گھر کے ایک طرف کچھ مستورات اپنے گھر کی تھیں ان کے پاس چلا گیا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک کھڑکی جس کے سامنے پردہ پڑا ہوا ہے اس کے پاس وہ کھڑی ہوئی کسی کی تقریر سن رہی ہیں میں بھی ان کے پاس آکھڑا ہوا اور میں نے بھی تقریر کرنی شروع کی۔مختصر مختصر چٹکلے اس میں بیان ہو رہے ہیں اور غیر احمدیوں کو قائل کیا جا رہا تھا تھوڑی دیر ہی تقریر سننے کے بعد مجھ پر ایسا اثر ہوا کہ میں نے چاہا کہ کھڑکی کا پردہ ہٹا کے میں تقریر کرنے والے کو دیکھوں تقریر خوب سنائی دے رہی ہے لیکن آواز غیر مانوس معلوم دے رہی ہے، تقریر