رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 562
562 تھے جو مختلف وقتوں میں امت میں پیدا ہوتے رہے۔میں نے سمجھا کہ یہ چھوٹے بڑے تاج ان لوگوں کے درجہ کے مطابق ہیں مگر ہیں سب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تاج کے نمونہ پر بنائے ہوئے تاکہ آپ کے نائب ہونے پر دلالت کریں اور معلوم ہوتا ہے کہ ہر زمانہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تاج کے مشابہ تاج آپ کے نائبوں کو دیا جاتا ہے اس وقت میں نے پہلے الہام کو دوسرے الفاظ میں ڈھالا اور کہا تَاجُ الْمَدِينَةِ وُضِعَتْ عَلَى رَأْسِى (پھر کر کو مونث صورت میں بیان کیا گیا، یعنی مدینہ کا تاج میرے سر پر بھی رکھا گیا میں نے وہ تاج کھول کر نہیں دیکھا جوڈ بہ میں بند میرے پاس رکھا گیا ہے لیکن اس کے نہ ہونے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی دھات کا نہیں تھا بلکہ زری کی تاروں سے بنا ہوا تھا جو پگڑی پر باندھا جاتا ہے جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا ہے کہ جاگنے پر معلوم ہوتا ہے کہ "نَزَلَتْ" اور "وُضِعَتْ" کی بجائے نَزَلَ اور وُضِعَ تھا لیکن زیادہ خیال یہی ہے کہ مونث کا صیغہ استعمال ہوا ہے اس صورت میں اس کی توجیہ یہ ہوگی کہ چونکہ اس قسم کا تاج پگڑی سے باندھا جاتا ہے جسے عربی زبان میں عصابہ کہتے ہیں جو مؤنث کا صیغہ ہے اس لئے اس کی رعایت سے تاج کے لئے بھی مؤنث کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا کہ یہ تاج عجمی لوگوں کے طریق کا نہیں جو دھات کا بنایا جاتا ہے بلکہ اسلامی علامت ہے جو پگڑی کے گرد لپیٹی جاتی ہے اس کے بعد وہ نظارہ غائب ہو گیا اور میں اس جگہ سے اٹھ کر اس جگہ آیا جسے میں اقامت گاہ سمجھتا ہوں راستہ میں مجھے کسی شخص نے ایک خط دیا جو حضرت اماں جان) کے نام لکھا ہوا تھا اسے میں نے پڑھا تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ حضرت عبد الغنی صاحب یا ایسا ہی کوئی نام تھا ان کا ذکر کر کے لکھا تھا کہ وہ آج کل قرآن کریم کے بڑے معارف بیان کر رہے ہیں اور ایمان کو بڑی تازگی حاصل ہوتی ہے آپ بھی ان ایام میں نہیں ٹھہریں اور ربوہ نہ جائیں میں اس وقت یہ خیال کرتا ہوں کہ یہ کوئی جھوٹا بنا ہو ا صوفی ہے جو ذوقی باتیں بیان کر کر کے بعض لوگوں کو دھوکا دے رہا ہے اور یہ بھی سمجھتا ہوں کہ میں وفات یافتہ ہوں اس خط کو پڑھ کر میں نے کہا افسوس۔اللہ تعالیٰ نے اتنے قرآنی علوم کے دریا میرے ذریعہ سے بہائے جن کی مثال دنیا کے پر وہ پر نہیں مل سکتی لیکن میری وفات کے چند سال بعد ہی جماعت کے کچھ کمزور لوگ ایسی دھو کا والی باتوں کا شکار ہو گئے اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو معرفت اور آسمانی علوم قرار دے رہے ہیں میں نے اتنا ہی کہا تھا کہ میری آنکھ کھل گئی۔