رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 547
547 استغفار اور انابت الی اللہ کا اظہار کرتے ہوئے تمہارے اندر رسوخ پیدا کر رہی ہے اور تم اس کے اظہار خیالات پر خوش ہو حالانکہ تم نہیں جانتے کہ جو مادہ خدا تعالٰی نے اس میں پیدا ہی نہیں کیا اس کا اظہار اس سے کس طرح ہو سکتا ہے یہ مادہ تو انسانوں میں پیدا کیا گیا ہے اگر انسان ایسی باتیں ظاہر کریں تو تم دھوکے میں آسکتے ہو کہ شاید یہ وہی ہو لیکن اگر ایک لومڑی ایسی باتیں کرے تو پھر دھو کا لگنا ممکن ہی کیسے ہو سکتا ہے کیونکہ جو چیز خدا تعالیٰ نے پیدا ہی نہیں کی وہ اس سے کس طرح ظاہر ہو سکتی ہے۔اس وقت یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمثیلی زبان میں جماعت میں ہونے والے کسی فتنہ کا ذکر کر رہا ہے اور بتاتا ہے کہ عارضی طور پر تبدیلی ظاہر کرنے والوں کو مستقل اور مجرب لوگوں پر ترجیح کس طرح دی جا سکتی ہے وہ تبدیلی کتنی بھی شاندار نظر آئے بہر حال اس میں منافقت کا امکان موجود ہے لیکن ایک مستقل وفاداری اور نیکی خواہ بظاہر چھوٹی ہی نظر آئے وہ زیادہ قابل اعتبار ہوتی ہے۔ہاں مجھے یاد آیا کہ اس رویا کے شروع میں میں نے دیکھا کہ کسی سرکاری افسر نے کوئی تقریر ایسی کی ہے جس میں احمدیت پر کچھ اعتراضات ہیں اس کو سن کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک پبلک فون کی جگہ پر چلے گئے ہیں اور فون پر اس کی تردید شروع کی ہے مگر بجائے آپ کی آواز فون میں جانے کے ساری دنیا میں پھیل رہی ہے اس فون میں آپ نے سب اعتراضوں کو رد کیا ہے جو اس افسر کی طرف سے کئے گئے ہیں۔الفضل 5۔اکتوبر 1954ء صفحہ 3 فرمایا : اس رویا میں جس لومڑی کا ذکر ہے اس کی شرارتوں کے متعلق جو گواہیاں مل رہی ہیں وہ 1953ء اور 1954ء کے زمانہ سے مل رہی ہیں بعضوں نے کہا ہے کہ شاید یہ لومڑی اللہ رکھا ہو لیکن اللہ رکھا تو کسی شمار و قطار میں نہیں اس سے جماعت کے آدمی کہاں دھوکا کھا سکتے ہیں اس سے تو سوائے چند بیوقوفوں کے جماعت میں کوئی دھوکا نہیں کھا سکتا۔یہ لو مڑکی تو وہی ہے جو پدرم سلطان بود کا نعرہ لگاتی پھرتی ہے بہر حال یہ خواب دوبارہ الفضل میں شائع کی جاتی ہے تا کہ دوست اس کو پڑھ کر دیکھ لیں کہ اللہ تعالیٰ نے 1954ء میں کتنا زبردست غیب مجھ پر ظاہر کیا ہے دو چار دن کے بعد ہم ایک دوسری رویا شائع کریں گے جو 1950 ء میں ظاہر کی گئی اور جس میں اس لومڑی کی تعیین بھی کر دی گئی ہے اس کو پڑھ کر دوستوں کو معلوم ہو جائے گا کہ ہمارا