رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 546 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 546

546 587 غالبا جولائی 1954ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ ایک مجلس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہیں میں ہوں اور کچھ اور دوست ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام آمنے سامنے دو زانو بیٹھے ہیں اتنے میں ایک شخص آیا جو ہندوستانی معلوم ہوتا ہے اس نے آکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اجازت لی کہ میں کچھ سنانا چاہتا ہوں آپ کی اجازت سے اس نے اپنے فارسی اشعار سنانے شروع کئے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بڑا قادر الکلام شاعر ہے پہلے اس نے قصیدہ سنایا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مناقب بیان کئے گئے ہیں کچھ میری مدح کی گئی ہے اس تمام عرصہ میں میں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام آمنے سامنے دو زانو بیٹھے رہے لیکن باقی لوگ شاعر کی طرف منہ کر کے بیٹھ گئے۔پہلے قصیدہ کے ختم ہونے کے بعد اس نے پھر اجازت لی اور اجازت سے پھر ایک قصیدہ سنانا شروع کیا وہ بھی فارسی میں تھا اور اس میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام مخاطب تھے اس کا مضمون کچھ اس قسم کا تھا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہدایت اور اس کو روشنی پہنچانے کے لئے مامور کیا اور آپ کا لایا ہوا نور دنیا میں مختلف گوشوں میں پھیل گیا پھر وہ متعدد ممالک کا نام لیتا ہے اس کے بعد وہ اس مضمون سے گریز کرتا ہوا ادھر آتا ہے کہ کاٹھیاواڑ (یا ایسا کوئی علاقہ اس نے ہندوستان کا بتایا ہے ) کہ وہاں میں گیا اور وہاں لوگ آپ کے نام سے واقف تھے اور آپ کی تعلیم کسی تک نہیں پہنچی تھی آخر میں چند شعر آپ کو غیرت دلانے کے لئے تھے اور ان کا مضمون یہ تھا کہ اے مسیح موعود کیا آپ اس علاقہ کے لئے مبعوث ہی نہیں ہوئے تھے یا آپ کے پیغام کو اس علاقہ میں ناکامی ہوئی جب وہ آخری شعر پڑھنے لگا تو مجلس مسحور ہو گئی اور خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی متاثر نظر آتے تھے اور بار بار ذکر الہی کرتے تھے اس کے بعد پھر اس نے مزید کلام پڑھنے کی اجازت لی اور پھر ایک فارسی نظم پڑھنی شروع کی جس میں احمد یہ جماعت مخاطب تھی اشعار کا مطلب یہ تھا کہ احمد یو! اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور تقومی طہارت اور پرہیز گاری کا مادہ اس میں رکھا اور اگر وہ غلطی کر بیٹھے تو تو بہ اور استغفار اور خدا سے معافی مانگنے کی طاقت اور رغبت اس میں پیدا کی لیکن لومڑی میں اس نے یہ خصلتیں نہیں رکھیں۔میں دیکھتا ہوں کہ ایک لومڑی تمہارے اندر داخل ہو گئی ہے اور بہت ہی تو بہ