رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 50
50 84 ستمبر 1917ء صفحہ 1 ستمبر 1917ء فرمایا : حضرت صاحب نے ایک رویا سنائی کہ ”میں (حضور ان دنوں میں شملہ میں مقیم تھے۔مرتب) قادیان گیا ہوں پھر واپس آنا پڑا ہے جس پر افسوس کرتا ہوں کہ کیوں جلدی کی۔الفضل 18 ستمبر 1917ء صفحہ 2 85 +1917 فرمایا : پچھلے ہی دنوں کی بات ہے کہ دو پہر کو میں ایک کتاب پڑھ رہا تھا کہ غنودگی آئی اور یہ الفاظ میری زبان پر جاری ہو گئے لَوْلَا النَّبضُ لَقُضِيَ الْحَبَضُ اور معلوم ہوا کہ یہ پیغامیوں کے متعلق ہے مجھے حبض کے معنے معلوم نہ تھے۔بعض لغت کی کتب میں بھی یہ لفظ نہ ملا آخر بڑی کتب لغت میں یہ لفظ ملا۔اور طرفہ یہ کہ ان میں ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ لفظ نبض کے ساتھ مل کر بہت استعمال ہوتا ہے چنانچہ عربی کا محاورہ ہے کہ مَا بِهِ حَبَضٌ وَلَا نَبَضُ اور حیض کے معنے حرکت کے ہیں خصو صادل کی حرکت کے تیز ہو کر پھر ٹھر جانے کے۔پس اس جملہ کے یہ معنے ہوئے کہ اگر نبض نہ چلتی ہوتی تو یہ جو ان کے دل کی حرکت تیز ہوتی ہے اور پھر ٹھہر جاتی ہے اور پھر تیز ہو جاتی ہے پھر گھر جاتی ہے اس کا خاتمہ کر دیا جاتا یعنی یہ ہلاک ہو جاتے۔جس کا مطلب مجھے یہ سمجھایا گیا کہ یہ جو ان میں بار بار جوش پیدا ہوتا ہے اور پھر دب جاتا ہے پھر پیدا ہوتا ہے اور پھر دب جاتا ہے یہ نتیجہ ہے ان کی ظاہری کو ششوں کا اور اصل کا اثر فرع پر نہیں پڑ رہا بلکہ فرع کی زندگی سے اصل پر بھی ایک اثر پڑ جاتا ہے اگر یہ حرکات اور یہ کو ششیں ان کی نہ ہوتیں تو یہ جو زندگی کے آثار ان میں پیدا ہو جاتے ہیں یہ مٹا دیئے جاتے گویا کلا نمد مولاء وَ هَؤُلَاءِ (بنی اسرائیل : (21) کے ماتحت ان کو یہ بات حاصل ہو رہی ہے۔حقیقة الرؤیا صفحہ 65-64 طبع دوم ( تقریر جلسہ سالانہ 28 دسمبر 1917ء)