رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 51

51 86 +1917 فرمایا : اس سال ایک معاملے کے متعلق جو گورنمنٹ کے ساتھ تھا ایسا اتفاق ہوا کہ کمشنر صاحب کی چٹھی میرے نام آئی کہ فلاں امر کے متعلق میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں لیکن مجھے آج کل اتنا کام ہے کہ میں گورداسپور نہیں آسکتا اور قادیان سے قریب تر جو میرا مقام ہے وہ امر تسر ہے یہاں اگر آپ آسکیں تو لکھوں۔اس چٹھی میں معذرت بھی کی گئی کہ اگر مجھے فرصت ہوتی تو میں گورداسپور ہی آتا لیکن مجبور ہوں۔اس چٹھی کے آنے سے تین دن بعد مجھے رویا ہوئی میں کمشنر صاحب کو ملنے کے لئے گورداسپور جا رہا ہوں اور یکوں وغیرہ کا انتظام ڈاکٹر رشید الدین صاحب کر رہے ہیں لیکن جس دن میں نے رویا دیکھی اس دن ڈاکٹر صاحب قادیان میں موجود نہیں تھے بلکہ علی گڑھ گئے ہوئے تھے اور اسی رات کی صبح کمشنر صاحب کی چھٹی آگئی جو بلا کسی تحریک کے تھی کہ مجھے کچھ کام گورداسپور میں بھی نکل آیا ہے اگر آپ کو امر تسر آنے میں تکلیف ہو تو میں فلاں تاریخ گورداسپور آرہا ہوں آپ وہاں آجائیں۔اس چٹھی سے ایک حصہ تو پورا ہو گیا مگر دو سرا حصہ باقی تھا اور وہ ڈاکٹر صاحب کی موجودگی تھی ڈاکٹر صاحب ایک مہینہ کے ارادہ سے علی گڑھ اپنی چھوٹی لڑکی کی لات کا اپریشن کرانے کے لئے گئے تھے اور ابھی ان کے آنے کی کوئی امید نہ تھی۔مگر دو سرے دن ہمیں گورداسپور جانا تھا کہ اتنے میں ڈاکٹر صاحب آگئے اور بیان کیا کہ جس ڈاکٹر نے اپریشن کرنا تھا اس نے ابھی ٹانگ کاٹنے سے انکار کر دیا ہے اور کہتا ہے کہ ایسا کرنا سرجری کی شکست ہے میں پہلے یونہی علاج کروں گا اس لئے میں نے سردست ٹھہر نا مناسب نہ سمجھا اور واپس آگیا ہوں (گو چند ماہ بعد اس ڈاکٹر کو مجبور آ ٹانگ کاٹنی پڑی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پہلی تحریک محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھی) غرض اس طرح دوسرا حصہ بھی پورا ہو گیا۔اب دیکھو یہ ایک مرکب خواب تھی اور اس وقت آئی تھی جب حالات بالکل خلاف تھے کیونکہ کمشنر صاحب کی چٹھی آچکی تھی کہ میں اس ضلع میں اس وقت نہیں آسکتا اور کوئی انسانی دماغ اس بات کو تجویز نہیں کر سکتا تھا کہ فورا وہاں ان کو کام پیدا ہو گا اور پھر وہ اس کی اطلاع دے کر امر تسر آنے سے روک دیں گے اور ادھر ڈاکٹر صاحب بھی غیر متوقع طور پر واپس آجائیں گے۔اس خواب کے جس قدر جزو ہیں وہ نہ صرف یہ کہ ایسے