رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 49 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 49

49 کر دعا کرنی شروع کر دی ہے جس سے وہ پگھلنا شروع ہو گیا اور آخر کار مر گیا۔الفضل 26۔مئی 1917ء صفحہ 5۔نیز الفضل 17۔کی 1919 ء صفحہ 7 و 29۔مئی 1928ء صفحہ 9 اور اسلام کا اقتصادی نظام صفحہ 111 تا 113 فرمایا : اس رویا کے ماتحت میں سمجھتا ہوں کہ ممکن ہے یہ جنگ ہندوستان کے اندر بھی آجائے۔خواہیں چونکہ تعبیر طلب ہوتی ہیں اسی لئے یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ اس کی یہی تعبیر ہے لیکن ممکن ہے اس کی یہی تعبیر ہو اور اگر ایسا ہوا تو یہ امر کوئی بعید نہیں کہ جنگ کے شعلے ہندوستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیں۔ہماری جگہ تک اس اژدھا کے پہنچنے کے یہی معنے ہیں کہ وہ جنگ ہندوستان میں آجائے یا اس کے اثرات ہندوستان کے لوگوں تک بھی پہنچیں۔الفضل 6 اکتوبر 1939 ء صفحہ 65 83 ستمبر 1917ء فرمایا : رات جب مباحثہ سے (1 بجے شب) دوست واپس آئے تو میں جاگتا تھا اس کے بعد غنودگی سی ہوئی اور کیا دیکھتا ہوں کہ ٹیلی فون دل سے لگا ہوا ہے اس کی نالیوں میں سے ایک نالی میرے کان میں دی گئی ہے اور مجھے آواز آئی چل رہی ہے نسیم۔۔۔۔یہاں جو الفاظ تھے مجھے یاد نہیں رہے) جو دعا کیجئے قبول ہے آج یہ وعدہ سنتے ہی مجھے حضرت مولوی صاحب حضرت خلیفہ اول۔ناقل) کی مکہ معظمہ والی دعا یاد آگئی اور میں نے دعا کی وہی۔”میں جو دعا کروں قبول ہو جائے"۔پھر فرمایا آسمان سے ہر وقت فرشتوں کے نام احکام جاری ہوتے رہتے ہیں اور ٹیلی فون میں جانے والے پیغاموں کا سا حال ہوتا ہے۔کبھی کبھی خداوند ایک Tube نالی کسی اپنے پیارے کے کان میں بھی لگا دیتے ہیں اور وہ احکام سنا دیتے ہیں۔مجھے اس رویا پر غور کر کے مزا آتا ہے کیونکہ ہمارے خانہ دل میں ہو کیونکر غیر کی الفت - تصوف میں نہیں دل کے سواعرش اللہ کوئی اور قلوب المؤمنین میں عرش اللہ کا مضمون اس رویا نے لطیف رنگ میں بتایا ہے۔الفضل 18۔