رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 48
48 اوپر کی چھت ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام رہا کرتے تھے اس لئے ممکن ہے خلیل احمد کی پیدائش کی طرف اشارہ ہو مگر چونکہ اس رویا کے بعد جلد ہی منور احمد پیدا ہوا اس لئے اسی کی طرف ذہن گیا۔خلیل احمد اس رویا کے پانچ چھ سال بعد پیدا ہوا ہے۔الفضل 9۔اپریل 82 41944 $1917 فرمایا : میں نے ایک رویا دیکھی اور آج تک جب یاد آتی ہے اس کی لذت محسوس کرتا ہوں۔میں نے دیکھا کہ ایک اژدھا ہے اور ایک سڑک ہے کچھ آدمی آگے بڑھے ہوئے ہیں اور ایک جماعت میرے ساتھ ہے۔جو لوگ آگے ہیں ان کے متعلق ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ہی ساتھ سے الگ ہوئے ہوئے ہیں۔اس کا شاید یہ مطلب ہو کہ بظاہر تو ساتھ ہیں مگر اطاعت میں تقدم کرتے ہیں۔چلتے چلتے کسی کے چیخنے کی آواز آئی ہے اور میں اس کی طرف دوڑتا ہوا گیا کہ اسے مصیبت سے بچاؤں۔دیکھا کہ ایک اژدھا ہے جو لوگوں پر حملہ کر رہا تھا اور کوئی انسان اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔جب وہ سانس لیتا تھا تو بے اختیار لوگ اس کی طرف کھنچے چلے جاتے اور کوئی ان کو روک نہ سکتا۔انسانوں پر ہی کیا موقوف ہے ہر ایک چیز درخت وغیرہ تک اس کی طرف کھنچنے لگے اور جب وہ سانس باہر نکالتا جہاں تک پہنچا وہاں تک کی ہر ایک چیز کو جلا کر راکھ کر دیتا۔اس وقت میں نے اپنے دوستوں میں سے ایک کو دیکھا جس پر وہ حملہ آور ہو رہا تھا۔میں بھاگ کر گیا کہ اس کی مدد کروں لیکن وہ اژدھا اس سے ہٹ کر مجھ پر حملہ کرنے لگا۔اس وقت مجھ کو وہ اثر دھایا جوج ماجوج ہی معلوم ہونے لگا۔اور خیال آیا کہ اس کا سامنے ہو کر مقابلہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ حدیث شریف میں ہے لا يَدَانِ لِأَحَدٍ بِقِتَالِهما (مسلم کتاب الفتن باب ذکر الدجال) کہ اس کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکے گا اور یہ حدیث یا جوج ماجوج کے متعلق ہے اس سے مجھے کچھ گھبراہٹ سی پیدا ہوئی لیکن معایہ بات مجھے سمجھائی گئی کہ اس حدیث کا تو یہ مطلب ہے کہ اس کے سامنے ہو کر کوئی مقابلہ نہیں کر سکے گا اگر کسی اور طریق سے حملہ کیا جائے تو ضرور کامیابی ہوگی۔اس کے بعد میں نے دیکھا کہ ایک چارپائی پیدا ہوئی ہے جو بنی ہوئی نہیں صرف چوکھٹ ہے اور وہ اس اژدھے کی پیٹھ پر رکھی ہوئی ہے میں اس پر کھڑا ہو گیا اور ہاتھ اٹھا