رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 47

47 جوش میں آئی اور متمثل ہو کر عورت کی شکل میں زمین پر اتری۔ایک عورت تھی۔اس کو اس نے سوئی دی اور کہا اسے مارو اور کہو جا کر چارپائی پر سو۔میں نے اس عورت سے سوئی چھین لی اس پر اس نے (خد اتعالیٰ کی اس مجسم صفت نے سوئی خود پکڑی اور مجھے مارنے لگی اور میں نے کہالو مارلو۔مگر جب اس نے مارنے کے لئے ہاتھ اٹھایا تو زور سے سوٹی کو گھٹنے تک لا کر چھوڑ دیا اور کہا۔دیکھو محمود! میں تجھے مارتی نہیں پھر کہا جا اٹھ کر سو ر ہو یا نماز پڑھ۔میں اس وقت کو دکر چارپائی پر چلا گیا اور جا کر سو رہا۔میں نے اس وقت سمجھا کہ اس حکم کی تعمیل میں سونا ہی بہت بڑی برکات کا موجب ہے۔ملا کہ اللہ صفحہ 69 - 70 ( تقریر جلسہ سالانہ 27 دسمبر 1920ء)۔نیز دیکھیں۔الفضل 7۔جون 1928 ء صفحہ 159۔مارچ 1934ء صفحہ 8 و 17۔فروری 1935 ء صفحہ 8 و 11۔اپریل 1936ء صفحہ 5 - 4 الفضل 10۔مئی 1944ء صفحہ 2 و 18 جون 1958ء صفحہ 3 و 8 اپریل 1959ء صفحہ 4 تعلق باللہ ) تقریر جلسہ سالانہ 28 دسمبر 1952ء) طبع دوم صفحہ 98 80 12 ستمبر 1917ء فرمایا : آج میں نے ایک رؤیا دیکھی ہے کسی سے غیر مبائعین کا ذکر کرتا ہوں اور کہا کہ بالفرض ہماری جماعت سے کوئی غلطی بھی ہو جائے تو بھی ہم عشقی ہیں اور وہ شقی۔مجھے ان الفاظ پر غور کر کے ایک لطف آتا ہے۔صرف ایک عین اڑانے سے شقی ہو جاتا ہے۔الفضل 18 ستمبر 1917ء صفحہ 2 81 1917 فرمایا : جب میرا لڑکا منور پیدا ہوا میں نے رویا میں دیکھا کہ منارہ ہلا ہے اور اس کی اوپر کی منزل اتر کر ہمارے گھر میں آگری ہے اور بغیر کسی نقص کے سیدھی کھڑی ہو گئی ہے۔پہلے تو مجھے تشویش پیدا ہوئی مگر اس رؤیا کے بعد میرے گھر یہ لڑکا پیدا ہوا اور اسی لئے میں نے اس کا نام منور رکھا کہ اس کی پیدائش سے پہلے میں نے دیکھا کہ منارۃ المسیح کے اوپر کی منزل اڑ کر ہمارے گھر میں آکھڑی ہوئی ہے مگر میں نے رویا میں منارہ کی منزل کو اسی صحن میں آکر کھڑا ہوتے دیکھا جو امتہ الحی مرحومہ کے گھر کا حصہ تھا اور ان کے باورچی خانہ کے آگے کا صحن تھا اور اس دالان کے