رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 508
508 547 اوائل اپریل 1952ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ ہم ایک میدان میں ہیں اور وہاں سے نکل کر کسی اور طرف جانا چاہتے ہیں تھوڑی دور چل کر ایک ایسی جگہ پر پہنچے ہیں جہاں ایک فصیل سی بنی ہوئی ہے لیکن وہ فصیل ساری کی ساری بند نہیں بلکہ دو طرف دیواریں ہیں اور بیچ میں خلاء ہے اور تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر اس خلاء میں بھی ایک دیوار لکڑی کی یا اینٹ کی آجاتی ہے یوں شکل سمجھ لیجئے جیسا کہ بغیر چھت والی لیکن اونچی دیوار والی مال گاڑیاں ہوتی ہیں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب آگے آگے ہیں اور میں اور کچھ دوست ان کے پیچھے ہیں گویا وہ ہمیں رستہ دکھاتے جارہے ہیں وہ اس عمارت میں گھس گئے ہیں اور گویا اس کو وہ منزل مقصود کا رستہ سمجھتے ہیں گڑھوں میں اترنا اور پھر اگلی دیوار کو پھاند نا یہ عجیب مشکل سا کام معلوم ہوتا ہے مگر تھوڑی دور چل کر جب ڈبے گہرے ہوتے چلے گئے اور بعض جگہ پر یوں معلوم ہوا جیسے اس جگہ پر پانی بھی ہے اور پاؤں رکھتے ہیں تو پاؤں نیچے دھنس جاتا ہے تو گھبراہٹ پیدا ہو نا شروع ہوئی چنانچہ ایک ڈبہ میں تو پہنچ کر معلوم ہوا کہ اس میں پانی ہی پانی بھرا ہوا ہے اور اوپر جو گھاس تھی وہ ہلکا سا تھا اس پر پیر رکھتے ہی وہ نیچے دب گیا اور میں پانی میں جا پڑا اس پر میں نے چوہدری صاحب سے کہا کہ چوہدری صاحب آپ کہاں ہم کو لے آئے ہیں یہ تو کوئی رستہ نہیں معلوم ہو تا چوہدری صاحب ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے اگلے ڈبہ میں ہیں وہ میری طرف دیکھ کر کہتے ہیں رستہ تو بالکل ٹھیک ہے دیکھ لیجئے میں آرام سے کھڑا ہوں اس وقت ایسا معلوم ہوتا ہے جیسا کہ چوہدری صاحب کے نیچے نہ پانی ہے اور نہ گڑھا ہے بلکہ جیسے کوئی سطح ہموار اونچی بنی ہوئی ہے اس پر وہ کھڑے ہوئے ہیں جس ڈبہ میں میں ہوں وہاں کیچڑ بھی ہے پانی بھی اور کوئی چلنے بلکہ کھڑے ہونے کی جگہ بھی نظر نہیں آتی۔میں کود کر آگے ہوا اور اس دیوار کو پکڑ لیا جو میرے ڈبہ اور چوہدری صاحب والے ڈبہ کے درمیان میں ہے اس وقت وہ دیوار لکڑی کی معلوم ہوئی۔جیسے گویا ریل ہی کا ڈبہ ہوتا ہے میں نے اپنے پاؤں سے ٹولا تو اس میں کوئی ایک دو انچ کی پڑی ہوئی لکڑی درمیان میں نظر آئی اس پر میں نے اپنے گھٹنے ٹیک لئے لیکن مجھے شرم محسوس ہوئی کہ میں چوہدری صاحب کی بات کو رد کروں کہ رستہ خراب ہے اور میں نے کہا چلو اسی طرح سہارا لے لیں گے اللہ تعالیٰ کوئی