رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 507 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 507

507 بہت ہی خوبصورت طور پر ساتھ ہی لکھے جاتے ہیں۔میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ الفاظ تو یہ سارے کے سارے اسی طرز پر تھے۔لیکن مضمون اور اکثر الفاظ یہی تھے صرف رویا کی حالت بدل جانے کے بعد غنودگی میں میں یہ شعر پڑھتا رہا ہوں اس لئے ممکن ہے کہ بعض الفاظ اس میں بدل کر دو سرے آگئے ہوں۔الفضل 27 جنوری 1952 ء صفحہ 4۔الفضل 29۔جنوری 1952ء صفحہ 2 - 13 فروری 1952ء صفحہ 5-4 546 مارچ 1952ء فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا کہ میری ایک ڈاڑھ گر گئی ہے مگر وہ میرے ہاتھ میں ہے اور میں اسے دیکھ کر تعجب کرتا ہوں کہ وہ اتنی بڑی جسامت کی ہے کہ دو بڑی ڈاڑھوں کے برابر معلوم ہوتی ہے میں خواب میں بہت حیران ہوتا ہے کہ اتنی بڑی ڈاڑھ ہے اسے دیکھتے دیکھتے میری آنکھ کھل گئی۔چونکہ ڈاڑھ کے گرنے کی تعبیر کسی بزرگ کی وفات ہوتی ہے اور چونکہ منذر خواب کا بیان کرنا منع آیا ہے۔میں نے یہ رویا بیان نہیں کی لیکن جب سندھ کے سفر میں حضرت اماں جان) کی بیماری کی خبریں آنی شروع ہوئیں تو اس رویا کی وجہ سے مجھے زیادہ تشویش ہوئی اور گو ابتداء ان کی بیماری کی خبریں ایسی تشویشناک نہیں تھیں لیکن اس رویا کی وجہ سے چونکہ مجھے تشویش تھی میں نے انتظام کیا کہ روزانہ ان کی بیماری کے متعلق نظارت علیا کی طرف سے بھی اور میرے گھر کی طرف سے بھی الگ الگ تاریں پہنچ جایا کریں چنانچہ آخر میں وہی بات ثابت ہوئی که مرض جسے پہلے معمولی ملیریا سمجھا گیا تھا آخر میں ان کے لئے مہلک ثابت ہوا۔خواب میں جو ڈاڑھ کو دو ڈاڑھوں کے برابر دکھایا گیا ہے اس سے اس طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اماں جان) ہمارے اندر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بھی قائم مقام تھیں اور اپنی بھی قائم مقام تھیں اور گو بظاہر وہ ایک نظر آتی تھیں لیکن در حقیقت ان کا وجود دو کا قائم مقام تھا۔اللہ تعالیٰ اس خلاء کو جو پیدا ہو گیا ہے اسے اپنی رحمت اور فضل سے پر کرے۔الفضل 9۔جولائی 1952ء صفحہ 3