رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 509
509 صورت نکال دے گا جب میں اس دیوار کو پکڑ کے اور اس کے نیچے پڑی ہوئی ایک لکڑی کے اوپر گھٹنوں کا سہارا لے کر لٹک گیا ہوں تو یکدم اللہ تعالیٰ نے کچھ ایسا تغیر پیدا کیا کہ وہ فصیل ریل کی شکل اختیار کر گئی اندر جو پانی اور کیچڑ بھرا ہوا تھا۔وہ سب غائب ہو گیا اور وہ چلنے لگ گئی گویا بجائے اس کے کہ ہم چلتے وہ ڈبے چلنے لگ گئے چنانچہ تھوڑی دیر کے بعد یوں معلوم ہوا کہ وہ ڈبے منزل مقصود پر پہنچ گئے ہیں چوہدری صاحب بھی اترے۔میں بھی اترا اور چوہدری صاحب نے مجھے ہنس کر کہا کہ دیکھئے رستہ ٹھیک ہی تھا ہم پہنچ ہی گئے ہیں۔میں نے دل میں کہا رستہ دستہ تو کوئی ٹھیک نہیں تھا۔یہ تو اللہ تعالیٰ کا کام تھا کہ اس نے رستہ کو ہی ریل بنا دیا اور ہم پہنچ گئے۔ور نہ وہاں تو کھڑے ہونے کی بھی جگہ نہیں تھی لیکن پھر بھی میں نے چوہدری صاحب کی بات کی تردید کرنی مناسب نہیں سمجھی صرف یہ سن کر میں مسکرا دیا۔یہ رویا کراچی کے واقعہ سے کوئی مہینہ بھر پہلے کی ہے ایسا معلوم ہو تا ہے کہ اس میں کچھ اس واقعہ کی طرف بھی اشارہ ہے اور بتایا گیا ہے کہ مشکلات آئیں گی اور سخت آئیں گی اور شاید کچھ حصہ ان مشکلات کا اس مخالفت کی وجہ سے ہو گا جو بعض لوگوں کو چوہدری صاحب کی ذات سے ہے اور ہمیں بھی اس میں حصہ لینا پڑے گا مگر جب ہم تو کل کر کے اور خدا تعالیٰ کی اس مشیت پر صبر کر کے اپنے آپ کو خدا پر چھوڑیں گے تو اللہ تعالیٰ ہماری کھڑی گاڑی کو چلا دے گا اور ہم منزل مقصود پر پہنچ جائیں گے۔الفضل 9۔جولائی 1952ء صفحہ 4 548 23/22۔اپریل 1952ء فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا کہ ایک بہت بڑا ہال ہے اس میں حضرت اماں جان) کی چار پائی ہے ہال کے درمیان میں یعنی اس کی دیواروں سے ہٹ کر چار پائی رکھی ہوئی ہے پائنتی کی طرف میاں بشیر احمد صاحب بیٹھے ہیں اور سامنے فرش پر کچھ اور عور تیں بیٹھی ہیں میں کمرے میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ ان کی طبیعت اچھی معلوم ہوتی ہے بیماری نہیں صرف ضعف ہے اس لئے وہ لیٹی ہوئی ہیں اور اوپر کمبل اوڑھا ہوا ہے جب داخل ہوا تو کسی شخص نے جو نظر نہیں آتا کہ کون ہے یا کوئی فرشتہ یا روح ہے آپ کو مخاطب کر کے اور میری طرف اشارہ کر کے یہ الفاظ کہے کہ