رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 495
495 شہرت کی وجہ سے مجھ کو یہ برا محسوس ہوا کہ قاضی صاحب اور دوسرے دوست ہمیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں قیام کی جگہ تک چھوڑ کر ان لوگوں کو جانا چاہئے تھے مگر بہر حال میں باقی دوستوں کے ساتھ چل پڑا اور میں نے دیکھا کہ شہر کے لوگوں کا رویہ ہمارے ساتھ ہمدردانہ ہی تھا مخالفانہ نہیں تھا۔چلتے چلتے ہم شہر کے شمال مغربی جانب کی طرف لوٹے وہاں مجھے یوں محسوس ہوا جیسے سڑک تنگ ہوتی چلی جاتی ہے اور اس کے اوپر مورچے بنے ہوئے ہیں یکدم مجھے سامنے ایک مشین گن نظر آئی جس کے اوپر کوئی پاکستانی سپاہی کھڑا ہے اور اس کے بعد متواتر تھوڑے تھوڑے فاصلے پر مشین گنیں نظر آئیں جن پر پاکستانی سپاہی کھڑے ہیں جو میرے ساتھ احمدی ہیں انہوں نے دوڑ کر معلوم کیا کہ کیا بات ہے اور واپس آکر مجھے بتلایا کہ کسی افغان یا سرحدی علاقہ کی طرف پاکستانی علاقہ کے اوپر توپ چلائی گئی ہے اور دشمن مورچے بنا کر کھڑا ہو گیا ہے۔اس کے جواب کے لئے پاکستانی فوجوں نے بھی مشین گنیں لگا دی ہیں اور مقابلہ کے لئے کھڑی ہو گئی ہیں۔یہ لفظ بھی بتانے والے نے کہے کہ شاہ محمدی کہا یا شیخ محمدی کی جہت کی طرف سے گولے آئے ہیں مجھے اچھی طرح یاد نہیں رہا کہ اس نے شاہ محمدی یا شیخ محمدی کہا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی گاؤں کا نام ہے یا علاقہ ہے یا اس نام کے کسی شخص کی جائیداد ہے۔زیادہ تر تو مجھے شاہ محمد کا لفظ یاد پڑتا ہے لیکن ساتھ اس کے یہ بھی شبہ پڑتا ہے کہ میں نے اچھی طرح سنا نہیں شاید شیخ محمدی ہو۔بہر حال لفظ یا شاہ محمدی تھا یا شیخ محمدی تھا اس وقت میری طبیعت پر یہ اثر پڑتا ہے کہ پاکستانی فوجیں نہایت چستی کے ساتھ اپنے فرائض ادا کر رہی ہیں اور کہ وہ منہ توڑ جواب دینے کے لئے تیار ہیں ایک دو گولوں کی آوازیں میں نے بھی سنیں لیکن طبیعت پر اثر یہی ہے کہ ہمارا پہلو غالب ہی رہے گا چنانچہ میں اس دیوار پر سے جو پناہ کے طور پر بنائی ہوئی ہے کود کر شہر کے اندر کے حصہ کی طرف چلا گیا اور میری آنکھ کھل گئی۔یہ رؤیا مجھے اس وقت آئی جب کہ ابھی صرف اتنی خبر شائع ہوئی تھی کہ پرائم منسٹر صاحب شہید کر دیئے گئے ہیں اور ایک ہزارہ کا شخص ہے جس نے ان پر کوئی چلائی ہے۔اس رؤیا سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ اس واقعہ میں افغانستان کے بعض لوگوں کا دخل تھا اور اس حملہ کو در حقیقت افغان بارڈر کی طرف سے توپ چلانے کا مترادف قرار دیا گیا ہے دوسرے دن اخباروں میں جو خبریں آئیں ان سے معلوم ہوا کہ