رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 494 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 494

494 مولوی ظفر علی صاحب نے جماعت کی بڑی لمبی مخالفت کی ہے گو کبھی کبھی جماعت کے کاموں سے متاثر ہو کر اس کی تعریف بھی کی ہے بہر حال ان کے والد سلسلہ کے بڑے مداح اور حضرت صاحب کے بڑے عقیدت مند تھے۔اس کی وجہ سے ان کی مخالفت کے باوجود بھی ہمارے دل میں ہمیشہ یہی خیال رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دے اور وہ اپنا رویہ بدلیں ان کی مخالفت کے ساتھ کبھی بھی طبیعت میں کمی انقطاع ان سے پیدا نہیں ہوا بوجہ ان کے والد مرحوم کے تعلق کے اور بوجہ اس کے کہ کبھی کبھی ان پر بھی یہ دور آتا ہے کہ وہ صداقت کا اظہار کرنے سے رکے نہیں اور جماعت کے اچھے کاموں کی انہوں نے تعریف کی ہے پس ممکن ہے ہماری ان خواہشات کے نتیجہ میں کسی وقت اللہ تعالیٰ ان کو اور ان کے بیٹے کو میانہ روی کی توفیق دے دے اور وہ اپنے اس طریقہ کو جو متانت کے بھی خلاف ہے اور اسلامی تعلیم کے بھی خلاف ہے ترک کر کے صلح کی طرف ہاتھ بڑھائیں یا کم سے کم ایسا ہو کہ جہاں ہمارے عیب ان کو نظر آتے ہیں وہاں ہماری خوبیاں بھی ان کو نظر آنے لگیں اور وہ ہماری مخالفت میں حد سے گزرنے کی بجائے میانہ روی کو اختیار کریں۔الفضل 30۔اکتو برا 195 ء صفحہ 5 16۔اکتوبر 1951ء 533 فرمایا : نواب زادہ لیاقت علی خان صاحب کے واقعہ والی رات ہی (یعنی 16 اکتوبر کو) میں نے رویا میں دیکھا کہ میں پشاور گیا ہوں اور وہاں جماعت کے لوگ میرے ساتھ ہیں اور کسی بڑی دعوت یا جلسہ کا انتظام کر رہے ہیں اور وہ مجھے یا جلسہ گاہ دکھانے کے لئے یا شہر دکھانے کے لئے شہر میں پھر رہے ہیں چنانچہ بعض بازار جو منڈی کے طور پر نظر آتے ہیں میں نے دیکھے مثلاً میں نے دیکھا کہ ترکاری اور پھلوں کے چوک کی طرح ایک جگہ ہے وہاں سے ہم گزرے مجھے خوب یاد ہے کہ جو لوگ میرے ساتھ بین ان میں قاضی محمد یوسف صاحب بھی ہیں ہم دور تک کئی بازاروں کو دیکھتے ہوئے گزرے ہیں آگے چل کر معلوم ہوا جیسے اب ہم اس جگہ کی طرف جانے لگے ہیں جہاں ہم نے ٹھرنا ہے۔اس جگہ پر قاضی محمد یوسف صاحب اور بہت سے احباب ہم سے جدا ہو کر اپنے گھروں کی طرف چلے گئے اور صرف پانچ اصحاب میرے ساتھ رہ گئے گو شہر کے لوگوں کا رویہ بہت اچھا نظر آتا تھا اور کوئی مخالفت نظر نہیں آتی تھی۔لیکن ان علاقوں کی عام