رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 496
496 وہ شخص جس کو ہزارہ کا سمجھا گیا تھا اصل میں افغانستان کا تھا اور اس طرح چند گھنٹوں میں اس رویا کی تصدیق ہو گئی۔الفضل 30۔اکتو بر1951ء صفحہ 6-5 534 20 اکتوبر 1951ء فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں ایک جگہ پر ہوں یہ ایک اچھا وسیع صحن یا میدان معلوم ہو تا ہے۔میرے ساتھ چند ایک آدمی بھی ہیں۔اس کے ایک کو نہ میں ایک مکان بنا ہوا ہے جو صرف سات آٹھ فٹ اونچا ہو گا اور شاید 7x7 فٹ چوڑا ہو گا مرغیوں کے ڈربے کی طرز کا ہے مگر مجھے ایک عام کمرہ معلوم ہوتا ہے جیسے غرباء کا کمرہ ہوتا ہے اس کی چھت پر تین یا چار آدمی کھڑے ہیں ایک لیڈر ہے اور باقی دو تین آدمی اس کے تابع معلوم ہوتے ہیں میرے ساتھ بھی دو تین آدمی ہیں وہ چھت پر کھڑے ہوئے آدمی مخالفین سے معلوم ہوتے ہیں اور ہم ان کو نیچے اتارنا چاہتے ہیں آخر وہ نیچے اتر آئے اس لیڈر کے جو ساتھی ہیں ان کے ساتھ تو شاید میرے ساتھی مقابلہ کرنے لگے ہیں نہ معلوم ان کے ساتھ کیا ہوا۔مگر جو ان کا افسر ہے اس کو میں نے پکڑ لیا میں نے زور سے اپنے ہاتھ سے اس کے ماتھے کے بال پکڑ لئے اور اس کو زمین پر بٹھا دیا پھر اس کو کبھی گھسیٹتا ہوا ایک طرف لے جاتا ہوں اور کبھی گھسیٹتا ہوا دوسری طرف لے جاتا ہوں اور عجیب بات یہ ہے کہ میں اس کے ساتھ عربی میں اپنے خیالات ظاہر کرتا جاتا ہوں وہ الفاظ قریباً قریباً مجھے یاد رہ گئے ہیں تھوڑا بہت شاید فرق ہو اور وہ یہ ہیں إِنَّكَ كُنْتَ تَسْحَبُ مَوْلَوِى سَرْوَرُ شَاهُ وَ أَصَحَابَهُ وَ تَجُرُّهُمْ عَلَى الْأَرْضِ أَخِذًا بِنَاصِيَتِهِمْ وتُؤْذِيهِمْ بِأَنْوَاعِ الْعَذَابِ وَ تَزْعَمُ أَنَّهُمْ يَكُونُونَ مَقْهُورِينَ مُذَلَّلِينَ فَيَا أَيُّهَا الْكَذَّابُ أَيْنَ نُبُوتُكَ الأن جہاں تک مجھے یاد ہے میں نے میں بِنَاصِيَتِهِمْ کیا ہے عام قاعدہ کے مطابق نَوَاصِيَهُمْ کہنا چاہئے تھا لیکن بعض دفعہ بات پر زور دینے کے لئے اور یہ بتانے کے لئے کہ فرداً فرداً ہر شخص سے یہ معاملہ کیا جاتا تھا مفرد کو بھی جمع کی جگہ استعمال کر دیا جاتا ہے اور اس طرح اس کے معنے یہ بن جاتے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک کے ماتھے کے بال پکڑ کر تو ایسا کرتا تھا۔اس عبارت کے معنے یہ ہیں کہ اے شخص تو مولوی سرور شاہ اور ان کے ساتھیوں میں سے ہر ایک ماتھے کے بال پکڑ کر گھسیٹا کرتا تھا اور ان کو زمین پر کھینچا کرتا تھا اور قسم قسم کی تکلیفیں دیگر