رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 493
493 کی طرف لوٹا اور میں نے وہاں اپنی لڑکی امتہ النصیر بیگم سلمها اللہ تعالیٰ (جو سارہ بیگم مرحومہ کی لڑکی ہے) کی آواز سنی۔وہ بارہ دری کے آگے کھڑی ہے اور اس کے سامنے ایک بڑا اونچا سا درخت ہے جیسے پرانے زمانے میں بارہ دریوں کے آگے باغیچہ ہوا کرتا تھا امتہ النصیر بیگم سلمها اللہ تعالیٰ اس درخت کی طرف اشارہ کر کے کہتی ہیں کہ یہاں ایک چیز رسی کی طرح لپٹی ہوئی تھی۔میں نے اسے رسی سمجھ کر ہاتھ مارا مگر وہ سانپ نکلا لیکن میرے اس طرح ہاتھ مارنے سے ہی وہ مر گیا میں دل میں خوش ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے فضل کر دیا کہ ایک معمولی چوٹ سے ہی سانپ مرگیا اور اسی پر میری آنکھ کھل گئی۔یہ کچھ ایسا ہی نظارہ تھا جیسے حضرت آدم کا واقعہ آتا ہے وہاں بھی درخت کے نیچے سانپ یعنی شیطان تھا مگر خواب بظاہر انجام کے لحاظ سے مبشر ہے کیونکہ اس میں یہی دکھایا گیا ہے کہ ہاتھ مارنے سے سانپ مرگیا اسی طرح سے میرے متعلق بھی بتایا گیا ہے کہ میں تیر کر اس جھیل کو پار کر گیا ہوں اور مجھے کسی قسم کا گزند نہیں پہنچا۔الفضل 30۔اکتوبر1951ء صفحہ 5 15۔اکتوبر 1951ء 532 فرمایا : میں نے دیکھا کہ میں گویا کسی پہاڑ پر ہوں اور وہاں مولوی ظفر علی صاحب اور مولوی اختر علی صاحب بھی ہیں انہوں نے بھی وہاں پر کوئی مکان کرایہ پر لیا ہوا ہے اور مولوی اختر علی صاحب نے میری دعوت کی ہے کچھ اور لوگوں کی بھی انہوں نے دعوت کی ہے میں حیران ہو تا ہوں کہ ایسے شدید دشمن کا دعوت کرنا کیا معنے رکھتا ہے مگر میں نے دعوت قبول کرلی اور ان کے گھر پر چلا گیا وہاں میں نے دیکھا کہ ایک کرسی پر مولوی ظفر علی صاحب بیٹھے ہیں لیکن کمزور معلوم ہوتے ہیں اور بڑھاپے کے شدید آثار ان پر ظاہر ہیں۔دونوں باپ بیٹا مجھ سے ملے اور پھر انہوں نے مجھ سے خواہش ظاہر کی کہ ہمار امکان چھوٹا ہے اگر آپ کہیں تو آپ کی کو ٹھی میں ہی دعوت ہو جائے۔میں نے خوشی سے اس کو منظور کر لیا چنانچہ میں بھی اور دوسرے مہمان بھی اور مولوی ظفر علی صاحب بھی اور مولوی اختر علی صاب بھی ہماری کو ٹھی پر آگئے وہاں ایک بڑا کمرہ ہے اس میں سارے بیٹھ گئے کہ یہیں کھانا کھایا جائے گا اس کے بعد میں نہیں کہہ سکتا کہ میری آنکھ کھل گئی یا بعد کا نظارہ مجھے یاد نہیں رہا بہر حال خواب اس حد تک یاد ہے۔