رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 492 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 492

492 چکھے ہیں بلکہ یوں محسوس ہوا جیسے پیٹ میں سیری کی کیفیت معلوم ہوتی ہے۔اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔شاید اللہ تعالیٰ حیدرآباد کے بعض اور لوگوں کو بھی ہدایت بخش دے اور اس طرح حیدر آباد کی تباہی کی جو حالت ہے وہ ترقی میں بدل جائے اور احمدیت وہاں پھیل جائے۔الفضل 30۔اکتوبر 5۔1951 15/14۔اکتوبر 1951ء 531 فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا کہ میں اور میرے گھر کے کچھ لوگ اس طرح سیر کے لئے جا رہے ہیں جس طرح بادشاہی عمارتوں کی سیر کے لئے لوگ جایا کرتے ہیں تھوڑے سے فاصلہ پر ایک بڑی بارہ دری نظر آئی پھر ایک باغ نظر آیا پھر ایک جھیل نظر آئی اور اس جھیل کے بعد پھر ایک بارہ دری نظر آئی۔ہم پہلی بارہ دری میں سے گزر رہے تھے کہ میں تیز قدم چل کر جھیل کے کنارے کی سڑک پر چلا گیا اور میں نے اس پر چلنا شروع کیا میرے پہلو میں میری لڑکی امتہ الجمیل سلمها اللہ تعالیٰ جارہی ہیں جو ہمار ا سب سے چھوٹا بچہ ہے اور ام طاہر مرحومہ کی لڑکی ہے اس کی عمر تو کوئی تیرہ سال کی ہے مگر قد و قامت اس کا بہت بڑا ہے لیکن بہر حال انسان کی حرکتیں عمر کے مطابق ہوتی ہیں چنانچہ میرے پہلو میں چلتے چلتے یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے وہ میرے ساتھ کھیلنا چاہتی ہے جیسے بچے کھیلتے ہیں چنانچہ اس نے اپنا وہ پیر جو میری طرف ہے اس کو لمبا کرکے میرے دونوں پاؤں کے پیچھے کر دیا اور اوپر سے میرے کندھے کو کندھا مارا۔یہ ایک مشہور پہلوانی داؤ ہے جس سے آدمی تھوڑی سی ٹکر سے بھی گر جاتا ہے اس نے اپنے بچپن میں یہی سمجھا کہ یہ ذرا لڑکھڑائیں گے اور میں ہنسوں گی لیکن میں چونکہ بالکل بے دھیان تھا اس کے کندھا مارتے ہی میں جھیل میں گر گیا اور بجائے اس کے کہ پھر دوبارہ سڑک کی طرف آؤں میں نے تیرنا شروع کر دیا اور مقابل کی طرف چلا گیا وہاں جھیل کے اندر ایک درخت ہے اور اس کے ساتھ کچھ اونچی زمین ہے۔میں اس کے اوپر جا کر کھڑا ہو گیا وہاں سے تھوڑے سے فاصلہ پر وہ دوسری بارہ دری کی طرف چلا گیا اور پھر بارہ دری سے گزر کر اسی سڑک پر آ گیا جہاں ہم پہلے چلے جا رہے تھے امتہ الجمیل سلمہا اللہ تعالیٰ کہیں آگے گزر گئی ہے چنانچہ میں پھر واپس پہلی بارہ دری