رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 480
480 ریلوے جنکشن پر گھر کے بڑے آدمی تمہیں چھوڑ کر چلے گئے تھے اور تم ریل گاڑی میں اکیلے رہ گئے تھے۔میں نے اس غیر مرئی خاتون سے کہا میری زندگی کا یہ واقعہ مجھے ہمیشہ ہی پریشان رکھتا ہے۔مجھے اتنا تو یاد پڑتا ہے کہ ہم گھر سے نکلے پھر یہ یاد پڑتا ہے کہ ایک جگہ جا کر ہمارے بزرگ ہم سے الگ ہو گئے لیکن اگلا واقعہ مجھے یاد نہیں آتا اور میرا حافظہ میری بالکل مدد نہیں کرتا۔کہ پھر ہم نے کس طرح سفر کیا۔کہاں پہنچے اور کس طرح پہنچے۔میں نے اتنی ہی بات کہی تھی کہ وہ چھوٹی سی لڑکی جو میرے پاس بیٹھی تھی آگے جھکی اور اس نے کہا مجھے یاد ہے۔میں بھی ساتھ تھی اور میں بھی پیچھے رہ گئی تھی اور اس نے اس بات کو ذرا لمبے پیرایہ میں بیان کرنا شروع کیا چونکہ میں خیال کرتا تھا کہ وہ پریشان کرنے والا خیال شاید آج حل ہونے والا ہے۔اس لئے اس کی لمبی گفتگو مجھے نا پسند ہوئی اور میں نے اس لڑکی کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر کہا۔چھوڑو ان لمبی باتوں کو کہ تم تو یوں بیٹھی ہوئی تھی اور تمہارے سر پر اس وقت بھی اوڑھنی تھی۔چھوڑو یہ کیا بات ہے" اس پر لڑکی نے کہا نہیں نہیں۔میں اصل واقعہ کی طرف آتی ہوں۔جب ہم نے دیکھا کہ ہم اکیلے رہ گئے ہیں اور بزرگ ہمیں بھول کے اتر گئے ہیں تو میں نے اپنی اوڑھنی ذرا اور نیچے کھینچی اور گردن جھکا کے بیٹھ گئی اور ہونٹ باہر نکالنے شروع کئے اور رونے کی تیاری کی۔اس وقت وہ عملاً بھی اوڑھنی کو اور نیچے جھکا لیتی ہے اور جس طرح بچیاں روتی ہیں اسی طرح اس نے اپنی شکل بنالی ہے پھر اس نے کہا جب میں رونے لگی تو ایک شخص لبے سے چہرہ کا اور لمبی سی داڑھی والا ریل کی کھڑکی میں سے سر نکال کے اندر کی طرف جھکا اور میرے سر پر ہاتھ رکھ کے اس نے کہا ”بی بی یہ کونسی رونے کی بات ہے انسان کی زندگی میں ایسے واقعات آیا ہی کرتے ہیں " جب اس لڑکی نے کہا کہ ایک آدمی لمبے سے منہ کا اور لمبی داڑھی والا اندر جھکا۔تو معا مجھے خیال آیا مولوی برہان الدین صاحب مولوی برہان الدین صاحب گویا یہ وہ تھے پھر اس لڑکی نے کہا۔اس کے بعد وہ آدمی کمرے کے اندر داخل ہوا اور آکر ہمارے پاس بیٹھ گیا اور ہمارے ساتھ گیا اور ہم منزل مقصود پر خیریت سے پہنچ گئے۔تب میرے دل میں آیا۔مولوی برہان الدین نہیں۔خدا کا فرشتہ۔آنکھ کھلنے کے بعد اس وقت بھی اور بعد میں بھی اس عجیب رویا پر میں نے غور کیا اور میں نے سمجھا کہ یہ میری زندگی کی تفسیر ہے۔اس وقت تک جو میں سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ چھوٹی لڑکی جو میں نے دیکھی وہ جماعت احمد یہ ہے اور جنکشن پر