رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 481 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 481

481 بزرگوں کا اتر جاتا اور ہم کو چھوڑ جانا یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات ہے اور ایک فرشتے کا آکر یہ کہنا کہ رونے کی کونسی بات ہے انسان کے ساتھ یہ واقعات پیش آیا ہی کرتے ہیں اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مامورین آخر ایک وقت میں جماعت سے جدا ہو ہی جایا کرتے ہیں لیکن بجائے رونے دھونے کے جماعت کا فرض ہوتا ہے کہ وہ فرشتوں کی مدد سے دین کے احکام کو دنیا میں پھیلائے اور میرا یہ کہنا کہ اس کے بعد کے واقعات کا مجھے پتہ نہیں کہ ہم کس طرح گئے اور کہاں پہنچے اس نے مجھے تعبیر کی طرف توجہ دلائی کیونکہ زندگی کے متعلق انسان نہیں جانتا کہ اس کی آخری منزل کہاں ہو گی اور اس کا سفر کس طرح ختم ہو گا لیکن رویا نے بتایا کہ گو وہ حالات جو آئندہ پیش آنے والے ہیں ان کو کما حقہ سمجھنا تو انسان کے لئے نا ممکن ہے اور انسان جب تک اپنی منزل پر پہنچ نہیں جاتا وہ حیران ہی رہتا ہے کہ میرے اس سفر کا انجام کیا ہو گا؟ لیکن تم کو اتنا بتایا جاتا ہے کہ تمہارا سفر برہان الدین اور فرشتوں کی معیت میں ہو گا یعنی خدا تعالیٰ اس سفر کو پورا کرنے اور اس کا انجام نیک کرنے کا خود ذمہ دار ہو گا۔الفضل 15 جون 1951ء صفحہ 5-4 جولائی1951ء 527 فرمایا : میں نے دیکھا کہ میرے پاس کچھ لوگ ریاست کشمیر کے آئے اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ ہماری مدد کریں تو ہم کشمیر کا ایک علاقہ فتح کرنا چاہتے ہیں میں نے کہا کہ پہلے آپ مجھے وہ علاقہ دکھائیں۔اس کے بعد میں فیصلہ کروں گا۔دل میں اس وقت شک پیدا ہوا کہ ایسا نہ ہو یہ لوگ ملک کے بدخواہ ہوں اور خود ایسے علاقے میں فساد کرنا چاہتے ہوں جو پاکستان کے ساتھ ہے یا پاکستان کے ماتحت ہے مگر میں نے اپنا یہ شبہ ان پر ظاہر نہیں کیا۔ان لوگوں نے میرے ساتھ ایک وقت مقرر کیا اور وہ مجھے اپنے ساتھ اس جگہ پر لے گئے۔میں نے دیکھا کہ ایک پہاڑی سا علاقہ ہے وہ مجھے اس کی چوٹی کے اوپر لے گئے جہاں ایک دیوار سی کھڑی ہے جیسے قلعوں کی فصیل ہوتی ہے یا مورچوں کی فصیل ہوتی ہے وہاں لوگ بڑی تیزی سے اترتے ہیں چڑھتے ہیں اور کام کرتے ہیں کوئی گولیوں کی آوازیں میں نے نہیں سنیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ مقابلہ ہو رہا ہے۔علاقہ کو دیکھنے کے بعد میری طبیعت پر یہی اثر ہوا کہ یہ لوگ پاکستان کے ساتھ تعلق رکھنے