رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 44

44 کی سرحد تک پہنچ گیا ہوں تب گھبراہٹ کی حالت میں میں نے دعا کرنی شروع کی کہ یا اللہ سندھ میں تو پیر لگ جائیں۔یا اللہ سندھ میں تو پاؤں لگ جائیں۔ابھی میں یہ دعا کر ہی رہا تھا کہ مجھے معلوم ہوا کہ سندھ آگیا اور پھر جو میں نے کوشش کی تو میرا پیر ٹک گیا اور پانی چھوٹا ہو گیا اور پھر میرے دیکھتے ہی دیکھتے سب پانی غائب ہو گیا۔ہیں سال ہوئے جب میں نے یہ رویا دیکھا۔اس وقت سندھ سے ہمارا کوئی تعلق نہ تھا لیکن جب سکھر بیراج کی سکیم مکمل ہوئی تو میں نے صد را انجمن احمدیہ پر زور دیا کہ وہاں زمینیں لیں۔اس میں ضرور اللہ تعالیٰ کی طرف سے برکت ہوگی کیونکہ میں نے اس کے متعلق رویا د یکھا ہوا ہے۔رپورٹ مجلس مشاورت 1937 ء صفحہ 78-79۔نیز دیکھیں۔الفضل 7۔اپریل 1944ء صفحہ 7 و 25۔جون 1944ء صفحہ 2 و 2۔اپریل 1946ء صفحہ 4 و 16۔مارچ 1952 ء صفحہ 6 اور المصلح کراچی 23۔ستمبر 1953ء صفحہ 1 اور الفضل 18۔فروری 1956ء صفحہ 5 و 20 اپریل 1960 ء صفحہ 4 اور رپورٹ مجلس مشاورت 1925ء صفحہ 75 جولائی 1916ء 72 فرمایا : جب میں خطبہ (قبولیت دعا کے طریق فرمودہ 2۔جولائی 1916ء۔ناقل) پڑھ کر مسجد سے گھر گیا تو دل میں آیا کہ سوائے دو تین طریقوں کے جو وقت کی تنگی کی وجہ سے بیان نہ ہو سکے باقی سب میں نے بیان کر دیئے ہیں اور یہ جو مجھے یاد ہیں ان کے علاوہ اور کوئی طریق نہیں ہے لیکن اس وقت جبکہ جمعہ کا دن اور رمضان المبارک کا مہینہ تھا میں نے دعا شروع کی تو خدا تعالیٰ نے کئی نئے طریق مجھے اور بتا دیے۔میں نے سمجھا تھا کہ وہی طریق کو چھوڑ کر جن کو انسان بیان ہی نہیں کر سکتا جس قدر بھی کسی طریق ہیں اور جنہیں ہر ایک انسان استعمال کر سکتا ہے وہ سب میں نے اخذ کر لئے ہیں لیکن جاتے ہی خدا تعالیٰ نے چار پانچ طریق اور بتا دیئے گویا جب میں نے جگہ خالی کی تو اور آگئے۔الفضل 23 ستمبر 1916ء صفحہ 8 73 ستمبر 1916ء فرمایا : ابھی کچھ ہی دن ہوئے محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم تمثیلی طور پر تشریف فرما ہوئے اور آپ نے مجھے فرمایا۔ہم تیری مشکلات کو دیکھتے ہیں اور ان کو دور کر سکتے ہیں لیکن ایک دو (یا